انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 525 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 525

ام جلد ۴ ۵۲۵ خطاب جلسہ سالانہ ۲۷ دسمبر ۱۹۱۹ء پس گو وہ جانور آسمان کو نہیں اٹھا سکتا مگر ہماری جماعت اللہ تعالٰی کے فضل سے آسمان کو اٹھا رہی ہے اور اٹھا سکتی ہے۔میں نے گزشتہ سالانہ جلسہ پر کہا تھا کہ مختلف مشن قائم کئے جائیں گے۔اس تبلیغی مشن کے بعد کئی ایک لوگ ہمارے مشنوں کے ذریعہ داخل سلسلہ ہوئے ہیں اور مشن پہلے سے زیادہ مضبوط ہو رہے ہیں۔ایران میں مبلغ نہیں بھیجے جا سکے جس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں کے لئے جو آدمی تیار کئے گئے تھے انہیں ایک اور جگہ بھیج دیا گیا ہے۔امریکہ کے لئے انتظام کیا جا رہا ہے اور مفتی صاحب کو تار دیا گیا ہے کہ جس قدر جلد ہو سکے امریکہ روانہ ہو جائیں امریکہ کے متعلق حال ہی میں مجھے ایک عجیب رویا ہوئی۔لکھنو کی خلافت کمیٹی کی اطلاع ابھی مجھے نہیں ملی تھی کہ میں نے دیکھا کسی جماعت کا میرے پاس ایک خط آیا ہے جس میں وہ مجھ سے کام کرنے کا مشورہ طلب کرتے ہیں۔میں نے انہیں کہا کہ امریکہ کی طرف نکل جاؤ اور تبلیغ اسلام کرو۔اس کے ساتھ ہی میں انہیں یہ بھی کہتا ہوں کہ میں تمہیں ثواب کا موقع دینا چاہتا ہوں ورنہ میں خود گڈریا بن کے امریکہ چلا جاؤں تو سارے امریکہ کو مسلمان بنالوں۔گویا میں نے ان کو جواب میں یہ خط لکھا ہے۔پھر میں نے دیکھا کہ ان کی طرف سے خط آیا ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ یہاں انجمن کا اجلاس ہوا اس میں تم متمثل ہو کر ظاہر ہوئے اور کہا کہ اگر میں گڈریا بن کے امریکہ میں نکل جاؤں تو سارے امریکہ کو مسلمان بنالوں۔آج ہی چودھری فتح محمد صاحب کا خط آیا ہے جس میں وہ لکھتے ہیں کہ امریکہ کا ایک شخص جو بڑا شاعر اور مصور ہے مجھ سے ملا اور گفتگو کے بعد مسلمان ہو گیا۔امریکہ میں تبلیغ کرنے کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ذرائع پیدا ہو رہے ہیں اور میں امید کرتا ہوں کہ ہمیں اس ملک میں اچھی کامیابی ہوگی۔اس کے علاوہ اور مشنوں کے لئے بھی تجاویز ہو رہی ہیں۔خدا تعالیٰ کی طرف سے آوازیں آرہی ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ اٹھو اور اٹھ کر دنیا میں پھیل جاؤ۔اس میں شک نہیں کہ بڑی بڑی مشکلات ہمارے راستہ میں ہیں۔اور شیطان پورے زور سے حملہ آور ہو رہا ہے۔مگر ضروری ہے کہ تم لوگ بھی اس کا اچھی طرح مقابلہ کرو اور پورے طور پر اس کے خلاف کھڑے ہو جاؤ۔یہ وہ باتیں ہیں جو آج میں آپ لوگوں کو کہنی چاہتا تھا۔اگر یہ پوری ہو گئیں یعنی جو تم پر فرائض ہیں ان کو تم نے ادا کر دیا۔اور دوسروں سے ان کے فرائض ادا کرانے کی کوشش کی تو