انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 519 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 519

انوار العلوم جلد ۵۱۹ خطاب جلسہ سالانہ ۲۷ دسمبر ۱۹۱۹ء جائے۔اس جنگ میں سات کروڑ روپیہ روزانہ صرف گورنمنٹ انگریزی کا صرف ہو تا تھا اور جرمنی کا بھی اسی قدر بلکہ اس سے بھی زیادہ خرچ ہوتا ہو گا۔اگر سود کا دروازہ کھلا نہ ہوتا تو جر منی اس خرچ کو ایک سال تک بھی برداشت نہ کر سکتا اور نہ جنگ کو اتنے عرصے تک چلا سکتا۔اور اس کا سارا اندوختہ تھوڑی ہی مدت میں ختم ہو جاتا۔پھر اس نے کیا کیا؟ یہی کہ سود کے ذریعہ اتنی مدت تک خرچ چلاتا رہا۔پھر لڑائی کی بنیاد بھی سود ہی کی وجہ سے پڑی۔یہ ٹھیک ہے کہ اتحادی حکومتوں نے اندفاعی طور پر جنگ کی۔لیکن جرمنی کو کس چیز نے لڑائی چھیڑنے کی جرأت دلائی؟ اسی سود نے۔وہ سمجھتا تھا کہ اگر جنگ شروع ہو گئی تو سود کے ذریعہ میں جس قدر روپیہ چاہوں گا حاصل کرلوں گا اور جنگ جاری رکھ سکوں گا۔اگر سود کا دروازہ نہ کھلا ہوتا تو اس قدر عظیم الشان جنگ جاری رکھنے کا اسے خیال ہی نہ آتا۔پھر اگر براہ راست جرمنوں پر ٹیکس پڑتے۔تو وہ ایک سال بھی لڑائی جاری نہ رکھ سکتے۔اور فور املک میں شور پڑ جاتا کہ ہم اس قدر بوجھ برداشت نہیں کر سکتے۔لیکن سود کے ذریعہ روپیہ لے کر لوگوں کو اس بوجھ سے غافل رکھا جاتا ہے جو جنگ کے لمبا کرنے کی وجہ سے ان پر پڑتا ہے اور اس طرح ان کو ناراض نہیں ہونے دیا جاتا۔پس سود ہی لڑائیوں اور بدامنیوں کے پھیلانے اسلام نے سُود کی کیوں ممانعت کی ؟ والا ہے۔اور جو لوگ کہتے ہیں کہ اس کے بغیر ترقی نہیں ہو سکتی وہ جھوٹ کہتے ہیں۔صحابہ کے زمانہ میں جب کہ دو دو کروڑ روپیہ ایک ایک شخص کے پاس ہو تا تھا کیا اس وقت سور ہی کے ذریعہ تھا۔سُود کو تو وہ حرام سمجھتے تھے۔پس یہ غلط ہے کہ سُود کے بغیر مال میں ترقی نہیں ہو سکتی۔پھر سود لینے سے انسان کاہل اور ست ہو جاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اتنی آمدنی تو ضرور ہی ہو جائے گی۔پھر کوئی کام کرنے کی کیا ضرورت ہے۔لیکن اسلام اس کو سخت نا پسند کرتا ہے اور یہ چاہتا ہے کہ ہر ایک انسان محنت کرے اور اپنے آپ کو ملک اور قوم کے لئے مفید بنائے۔پس اسلام نے سود سے منع کیا اور زکوۃ اور وراثت کے طریق کو جاری کیا۔اس ذریعہ سے دولت کسی خاص خاندان میں جمع نہیں رہ سکتی۔بلکہ جو محنت کرے وہی مالدار ہو اور غریبوں کے راستے میں تو کوئی روک نہیں رہتی۔غرض شود کے روکنے کا مسئلہ نہایت ہی حکیمانہ مسئلہ تھا مگر افسوس کہ خود مسلمانوں نے لالچ سکتا۔ہے۔