انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 510 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 510

۵۱۰ خطاب جلسہ سالانہ کے ۲- دسمبر ۱۹۱۹ء تھوڑی سی چیز بغیر قیمت کے دے دیا کرتا ہے۔اس پر اگر کوئی سارے خوان کی طرف ہاتھ بڑھائے تو اسے دکان سے باہر نکال دیا جاتا ہے۔کیونکہ اس کے لئے قیمت خرچنا ضروری ہے۔تو پہلے پہلے ایمان لانے کے وقت جو کچھ انسان کو دکھایا جاتا ہے وہ اس کی کسی قیمت کوشش ، محنت اور خوبی کی وجہ سے نہیں ہو تا بلکہ نمونہ کے طور پر ہوتا ہے اور پھر اس کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ محنت اور کوشش کرے۔ابتلاء اٹھائے اور ثابت قدمی دکھلائے۔تب اس انعام کو پائے۔پس ابتداء میں جو انعام ہوتا ہے۔وہ نمونہ اور چاشنی کے طور پر ہوتا ہے۔اس کے بعد اگر انسان سعی ، محنت اور کوشش کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کا عبد ہو جاتا ہے۔تو اس کے لئے خاص انعامات کا دروازہ کھولا جاتا ہے۔پس یہ مت خیال کرو کہ خدا تعالیٰ کے عبد کامل یونہی بن سکتے ہو۔اس کے کئی درجے ہیں۔ابتداء میں یوں سہارا دینے اور آگے بڑھنے کا حوصلہ دلانے کے لئے خدا تعالیٰ فضل کر دیتا ہے۔اور اس کی مثال ایسی ہی ہوتی ہے۔جیسا کہ تھکے ہوئے گھوڑے کو راستہ میں گھاس دکھا دی جاتی ہے تاکہ وہ دوڑے۔لیکن اصل وقت اس کے گھاس کھانے کا وہی ہوتا ہے جب کہ منزل مقصود پر پہنچ جاتا ہے۔تو ابتداء میں خدا تعالیٰ انسان کی ہمت بندھانے اور اسے اپنے انعام کا نمونہ دکھانے کے لئے کچھ دکھا دیتا ہے۔جو پورے طور پر اسی وقت حاصل ہوتا ہے جب کہ انسان عبد بن جاتا ہے۔اب میں پھر اصل مضمون کی طرف آتا ہوں آپس کے معاملات کیسے ہونے چاہئیں میں نے بتایا ہے کہ عبد بننے کے لئے دوسرا فرض معاملات کو درست رکھنا ہے۔اور آپ لوگوں کو میں نصیحت کرتا ہوں کہ اس فرض کی ادائیگی کے لئے پوری پوری کوشش کرو۔ایسا نہ ہو کہ تم سودا لو اور قیمت کم دو۔ایسا نہ ہو کہ تم سودا بیچو اور کھوٹا بچو۔ایسا نہ ہو کہ تم کسی کے نوکر ہو اور بد دیانتی کرو۔ایسا نہ ہو کہ کسی کے ساتھ تمہاری شراکت ہو اور بلا اجازت مال کھا جاؤ۔ایسا نہ ہو کہ تم قاضی اور حج بنائے جاؤ اور رشوت لو۔ایسا نہ ہو کہ کوئی کام تمہارے سپرد کیا جائے اور تم اس کو اچھی طرح نہ کرو۔ایسا نہ ہو کہ تمہیں طاقت اور قدرت حاصل ہو اور تم لوگوں پر ظلم کرو۔ایسا نہ ہو کہ کوئی مسکین اور غریب تمہارے پاس آئے اور تم اسے دھتکار دو۔ایسا نہ ہو کہ کوئی خدا کے لئے تم سے سوال