انوارالعلوم (جلد 4) — Page 509
العلوم جلد م ۵۰۹ خطاب جلسہ سالانہ ۲۷-۱ نمبر ۱۹۱۹ء اور باجماعت نماز ادا کیا کرو۔کیونکہ اس کے بغیر تم خدا تعالیٰ کے عبد نہیں ہو سکتے۔اس کے بعد اور بھی طریق ہیں۔مثلاً حج کرنا، ظاہری طور پر صدقات دینا رمضان کے روزے رکھنا۔یہ ظاہری عبادات ہیں۔اعمال ظاہرنی کا دوسرا رکن معاملات ہیں۔معاملات آپس کے معاملات درست رکھو کے متعلق بھی خدا تعالیٰ نے احکام دیتے ہیں۔اور جب تک معاملات کو درست نہ کیا جائے اس وقت تک بھی انسان خدا تعالیٰ کا عبد نہیں بن سکتا۔مثلاً باپ کا بیٹے سے معاملہ ہے۔اس کو درست رکھے اور گو وہ باپ ہے۔لیکن چونکہ معاملات کو درست رکھنے کا خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ باپ بھی اس امر کا خیال رکھے۔پھر بیٹے کا باپ سے تعلق ہے۔پھر حکومت سے تعلق ہے۔بھائی کا بھائی۔تعلق ہے۔خاوند کا بیوی سے تعلق ہے۔دوست کا دوست سے تعلق ہے۔بچہ کا ماں سے تعلق ہے۔انسان کا دوسرے انسانوں سے تعلق ہے ان کو درست رکھنا چاہئے۔پہلے تو خدا سے بندے کے تعلقات تھے۔اور یہ بندے کے بندے سے تعلق ہیں۔گویا اعمال ظاہری کی بھی دو لاتیں ہیں جن کے ذریعہ انسان کھڑا ہو سکتا ہے۔اور جو ان سے محروم ہو وہ خدا تعالیٰ کا عبد ہونے کے مقام پر کھڑا نہیں رہ سکتا۔ان میں بڑی احتیاط کی ضرورت ہے مگر بہت لوگ کو تاہی کرتے ہیں۔وہ نمازیں پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں، زکوۃ دیتے ہیں ، حج کرتے ہیں۔مگر دس روپیہ بھی اگر کوئی ان کے پاس امانت رکھے اور پھر مانگنے آئے تو ان کی جان نکلنے لگتی ہے۔وہ امانت میں خیانت کرتے ہیں۔دوسروں کے حقوق ادا نہیں کرتے۔آپس کے معاملات درست نہیں رکھتے۔حالانکہ کوئی شخص اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک پورے طور سے دوسروں کے حقوق ادا نہیں کرتا۔اس موقع پر میں ضمناً ایک اور بات بھی کہنا چاہتا ہوں۔ایک شخص نے مجھے ایک ضمنی بات کہا ہے کہ میں پہلے جب احمدی ہوا تھا تو مجھ پر خوابوں کا بڑا انکشاف ہوا۔لیکن پھر بند ہو گئیں اس کی کیا وجہ ہے۔کیا وہ نہیں جانتے کہ گھر میں سے عبد کو ہی مستقل طور پر کھانا ملا کرتا ہے۔پس یوں تو خدا تعالیٰ اپنے فضل کا نمونہ کبھی دوسروں کو بھی دکھا دیتا ہے تاکہ ان کو ایمان کی لذت چکھائے۔لیکن اگر وہ اعمال صالح میں کمی کریں۔تو پھر اس سلسلہ کو جاری نہیں رکھا جاتا۔اس فضل کی مثال ایسی ہی ہے۔جیسا کہ دکاندار اپنی چیز کا نمونہ دکھانے کے لئے