انوارالعلوم (جلد 4) — Page 504
انوار العلوم جلد ۴ ۵۰۴ خطاب جلسه سالانه ۲۷ دسمبر ۶۱۹۱۹ صفحه ۲۰۲ مطبوعہ لاہور) تو یہ قربانیاں تھیں جو صحابہ اپنے نفسوں کی کرتے تھے۔ اور اپنے آپ کو - پ کو سوائے اس کے کچھ نہ سمجھتے تھے کہ خدا تعالی کے ہاتھ میں ایک ہتھیار کی طرح ہیں رسول کریم ال جو یہ فرماتے ہیں۔ کہ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعُلَمِينَ ) (الانعام : ۱۱۳) اس میں قربانی سے مراد بکروں کی قربانی نہیں بلکہ جسمانی اور نفس کی قربانی ہے۔ اور صلاتی کا لفظ مَحْيَايَ کے مقابلہ میں ہے۔ اور نُسُکِی کا لفظ مَعَاتِی کے مقابلہ میں بیان کیا گیا ہے۔ یعنی یہ پچھلے لفظوں کی تشریح کرتا ہے ۔ صَلَاتِی کے لئے فرمایا مَحْيَايَ یعنی نماز کے مقابلہ میں زندگی کو رکھا کہ رسول کریم " فرماتے ہیں نماز پڑھنے سے میں نے زندگی حاصل کی اور خدا کو پالیا ہے۔ اور نسکی کے مقابلہ میں مَسَاتِی۔ یعنی نفس کی قربانی کو رکھا ہے۔ اس میں رسول کریم اس کے متعلق یہ بتایا گیا ہے ۔ کہ آپ نے اپنے نفس کو قتل کر دیا مگر ایسا قتل کیا کہ اس سے ہزاروں زندہ ہو گئے۔ تو جب تک انسان اپنے نفس کو قتل نہ کرے ۔ اس وقت تک خدا تعالیٰ کا عبد نہیں کہلا سکتا۔ اور خدا تعالی کے لئے جب تک "میں" نہ ٹوٹے کوئی انسان عبد نہیں ہو سکتا کیونکہ میں کہنے والا عبد نہیں سمجھا جاسکتا۔ پس تم لوگ اپنے اندر عبودیت پیدا کرو اور یہ جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں دو ذریعوں سے ہو سکتی ہے۔ اور اس وقت میں چاہتا ہوں کہ ان دو ذریعوں کو کسی قدر تفصیل سے بھی بیان کر دوں۔ اول ذریعہ جیسا کہ میں بتا چکا ہوں یہ ہے کہ انسان ان فرائض کو عبد بنے کا پہلا ذریعہ پورا کرے جو اس کے ذمہ لگائے گئے ہیں اور ان باتوں سے بچے جن سے منع کیا گیا ہے۔ اس حصہ کے متعلق یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ احکام دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جن کا اس کی ذات سے تعلق اور جن کا علم دوسروں کو نہیں ہو سکتا۔ اور ایک وہ جو ظاہر ہیں اور ان کا علم دوسروں کو بھی ہوتا ہے اور ان سے بھی اس کا تعلق ہوتا ہے۔ ظاہر اور باطن دونوں اچھے ہونے چاہئیں ظاہری اور ایک پالتی بود انسان کی دو ہی حالتیں ہوتی ہیں ایک باطنی۔ بعض لوگ جھوٹے پیر بن جاتے ہیں اور کچھ لوگ ان کے مرید کہلانے لگ جاتے ہیں جو لوگوں کے سامنے تو