انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 502 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 502

خطاب جلسہ سالانہ ۲۷ دسمبر ۶۱۹۱۹ ۵۰۲ ۴ کے مقابلہ میں حجاز کے لوگوں کو بھی چون و چرا کی گنجائش نہ تھی۔اور گو وہ اس کے ماتحت نہ تھے مگر اس کے حکم سے سرتابی بھی نہیں کر سکتے تھے۔اور رسول کریم صلی علیہ سلم کے معاملہ میں تو حجاز کے لوگوں کو کسریٰ کا حکم برا منانے کی کوئی وجہ بھی نہ تھی کیونکہ وہ خود چاہتے تھے کہ اس شخص کو کوئی سزا دے۔جب یمن کے گورنر کے نام یہ حکم پہنچا تو اس نے اپنے دو معتبر آدمیوں کی معرفت آپ کے نام حکم بھیجا کہ آپ فورا یمن پہنچ جاویں تاکہ آپ کو کسری کے حضور حاضر کیا جاوے۔یہ لوگ جب رسول کریم ﷺ کے پاس پہنچے اور آپ کو اطلاع دی تو ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ آپ جانے سے انکار نہ کریں۔اس حکم میں انکار کی گنجائش ہی نہیں ہے یہ بہت سخت اور تاکیدی حکم ہے۔اگر اس حکم کی اتباع کریں گے تو بازان گورنریمن آپ کی سفارش کر دے گا۔اور اس سے آپ کو فائدہ پہنچ جاوے گا لیکن اگر آپ نے اس حکم کو قبول نہ کیا تو پھر آپ کسری کو جانتے ہیں۔وہ آپ کو اور آپ کی قوم کو اور آپ کے ملک کو ہلاک و برباد کر دے گا۔آپ نے فرمایا میں اس بات کا جواب کل دوں گا۔رات کو آپ کو وحی کے ذریعہ بتا دیا گیا کہ کسری کو اس کے بیٹے نے مار دیا ہے۔آپ نے دوسرے دن ان کو بلا کر کہہ دیا کہ جاؤ تمہارے خدا کو میرے خدا نے مار دیا ہے۔یعنی کسری کو اللہ تعالیٰ نے اس کے بیٹے ہی کے ہاتھوں مروا دیا ہے۔ان لوگوں نے کہا کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں کچھ انجام سوچیں معلوم بھی ہے کہ یہ بات کتنی بڑی ہے۔آپ نے فرمایا حق یہی ہے جو میں کہتا ہوں۔جاؤ اور اپنے بادشاہ کو اطلاع دے دو۔وہ لوگ واپس چلے گئے اور جا کر گور نریمن کو اطلاع دی۔گورنر یمن نے کہا اچھا چند روز ہم لوگ انتظار کر کے دیکھتے ہیں کہ یہ بات کہاں تک درست ہے۔آخر کچھ مدت کے بعد اس کے نام ایک شاہی فرمان پہنچا۔جب اس نے کھولا تو وہ نئے بادشاہ کی طرف سے تھا۔جس میں لکھا تھا کہ ہم نے اپنے باپ کو فارس کی خیر خواہی سے مجبور ہو کر مار دیا ہے کیونکہ وہ ظالم تھا اور بے گناہ اور بلا سبب شرفاء ملک کو قتل کر رہا تھا۔اور اب ہم اس کی جگہ بادشاہ ہیں تم اپنے علاقہ میں ہماری اطاعت کا سب سے اقرار لو اور ہمارے باپ نے جو ایک خط عرب کے ایک شخص کے متعلق لکھا تھا کہ اسے پکڑ کر بھیج دو اس حکم کو منسوخ سمجھو۔اور جب تک اس کے متعلق کوئی اطلاع نہ آوے اس کے متعلق کوئی اور کارروائی نہ کرو۔زرقانی جلد ۳ صفحه ۳۴۲ مطبوعہ مصر - فتح الباري لابن حجر عسقلانی جلد ۸ ص ۱۳ ) خدا تعالیٰ کے عہد کی یہ شان ہوتی ہے لیکن عبد بنتا آسان نہیں۔سخت محنتوں اور مشقتوں