انوارالعلوم (جلد 4) — Page 481
العلوم جلد ۴ خطاب جلسہ سالانہ کے کار جماعتیں اس نے غیر ممالک میں ہمیں دی ہیں۔ان کی مضبوطی کا پتہ اس سے لگ سکتا ہے احمدیان سیلون اور مولوی محمد علی صاحب که مولوی محمد علی صاحب نے ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام اختلاف سلسلہ کی تاریخ ہے۔اس میں بڑے زور سے اپیل کرتے ہوئے انہوں نے لکھا ہے کہ اے وہ لوگو جنہوں نے مسیح موعود کو دیکھا ہے آج فیصلہ کر دو تاکہ اختلاف مٹ جائے۔مگر یہ لکھا انگریزی میں ہے حالانکہ اکثر وہ لوگ جنہوں نے مسیح موعود کو دیکھا ہے انگریزی نہیں جانتے۔میں پوچھتا ہوں کہ گھٹیا لیاں اور دا تا زید کا جہاں پر انی جماعتیں ہیں وہاں کے کتنے لوگ اس کتاب کو پڑھ سکتے ہیں۔پھر سیالکوٹ شہر میں کتنے لوگ ہیں جو اس کو پڑھ سکتے ہیں۔پھر گجرات اور کھاریاں کی جماعت میں کتنے ہیں۔شاہ پور کے چکوں میں کتنے ہیں جو اسے پڑھ سکتے ہیں ؟ پھر یہاں قاضی سید امیر حسین صاحب، مولوی سید سرور شاہ صاحب حافظ روشن علی صاحب پرانے آدمی ہیں۔یہ اور ان کے علاوہ اور کتنے ہیں جو اسے پڑھ سکتے ہیں۔لیکن کیسی عجیب بات ہے کہ اپیل تو ان لوگوں سے کی گئی ہے۔لیکن کتاب لکھی انگریزی میں ہے۔جس کے صاف معنے یہ ہیں کہ ان کے کھانے کے دانت اور ہیں اور دکھانے کے اور۔اس کتاب کے لکھنے سے ان کی غرض یہ ہے کہ دیگر ممالک کے جو لوگ یہاں نہیں آتے اور اردو پڑھ نہیں سکتے وہ اس کتاب کو پڑھ کر ہم سے علیحدہ ہو جائیں اور ان سے مل جائیں۔اس سے ظاہر ہے کہ یہ کتاب کسی فیصلہ کے لئے نہیں لکھی گئی بلکہ اس کے لکھنے کی غرض سیلون، ماریشس، سیرالیون نائجیریا وغیرہ کے احمدیوں کو گمراہ کرنا ہے۔لیکن جب یہ کتاب سیلون میں پہنچی اور یہاں سے اس کے متعلق دریافت کیا گیا تو وہاں سے جواب آیا کہ اس کتاب کے ذریعہ غیر احمدی ہماری اور زور سے مخالفت کرنے لگ گئے ہیں۔مگر ہم پر اس کا کوئی اثر نہیں ہے۔کتاب لکھنے اور بھیجنے والوں سے کہہ دیا جائے کہ ہم نے حق کو پالیا ہے تمہاری ایسی کوششوں سے اب ہم اسے چھوڑ نہیں سکتے۔پھر نائجیریا والوں کو لکھا گیا کہ اگر کوئی اس قسم کی کتاب پہنچی ہو اور اس کی وجہ سے آپ لوگوں کے دلوں میں کچھ شکوک پیدا ہوئے ہوں تو ان کے متعلق ہم سے دریافت کیجئے۔اس کے جواب میں وہاں سے خط آیا تو یہ آیا کہ محمد علی کی فتنہ ڈالنے والی تحریر ہم پر کوئی اثر نہیں ڈال سکتی۔ہم نے حضرت مرزا صاحب کی نبوت کو خوب سمجھا ہوا ہے۔اور اسی ریویو آن