انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 471 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 471

العلوم جلدم خطاب جلسہ سالانہ ۲۷ دسمبر ۶۱۹۱۹ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خطاب حضرت فضل عمر خلیفة المسیح الثانی جو حضور نے سالانہ جلسہ کے موقع پر ۲۷ دسمبر ۱۹۱۹ء کو مسجد نور قادیان میں فرمایا) اَشْهَدُ أن لا إله إلا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَاشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ امَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ وَذَكِّرْ فَإِنَّ الذِكْرَى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِينَه وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا ليَعْبُدُونِهِ مَا أُرِيدُ مِنْهُمْ مِنْ رِزْقٍ وَمَا أُرِيدُ أَنْ يُطْعِمُونِهِ إِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِيْنُ ، فَإِنَّ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا ذَنُوبَا مِّثْلَ ذُنُوبِ اَصْحْبِهِمْ فَلَا يَسْتَعْجِلُونِه معذرت فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ يَوْمِهِمُ الَّذِي يُوْعَدُونَ (الدريت : ۵۲ (۶۱) پیشتر اس کے کہ میں اس مضمون کے متعلق کچھ بیان کروں جس پر بولنے کا آج میرا ارادہ ہے میں ان سب احباب سے جو بیرون جات سے تشریف لائے ہیں ایک معذرت کرتا ہوں۔مجھے آج صبح ایک نہایت افسوس ناک خبر معلوم ہوئی ہے کہ بعض احباب کو آج رات جلسہ کے منتظمین نے بہت سخت اور ناجائز تکلیف دی ہے۔اسلام نے علاوہ اس اخوت اسلامی کے جو ہر ایک مسلمان پر فرض کی گئی ہے مسلمانوں کے لئے اکرام ضیف بھی ایک فرض قرار دیا ہے۔اور چونکہ اس فرض کو خدا تعالیٰ نے مقرر کیا ہے اس لئے کوئی انسان اسے مٹا نہیں سکتا۔اور جو اس کے خلاف کرتا ہے وہ اپنے مہمان کی ہتک نہیں کرتا بلکہ اپنی ہتک بھی کرتا ہے کیونکہ خدا تعالٰی کے مقرر کردہ حقوق کو کوئی نہیں مٹا سکتا۔لوگ کہتے ہیں فلاں نے میری ہنگ کی۔فلاں نے میری ہتک کی۔مگر اصل بات یہ ہے کہ ہتک حق پر قائم ہوتے ہوئے