انوارالعلوم (جلد 4) — Page 21
انوار العلوم جلد ۴ ۲۱ جماعت قاریان کو نصائح گے۔ کئی خاندان ہیں جو افغانستان یا ایران سے آئے ہیں وہ اپنے آباؤ و اجداد کی زبان بھی بولتے ہیں اور اس کے ساتھ پنجابی و اردو بھی خوب جانتے ہیں۔ غرض جب ماں باپ عربی سیکھ لیں گے تو آگے ان کے بچوں کے لئے بہت سہولت ہو جائے گی۔ وقت صرف موجودہ صورت حال میں ہے جس کو رفع کرنا ہمارا کام ہے۔ یہ خوب یاد رکھو کہ اللہ کا کوئی حکم نہ تو بوجھل ہے نہ خدا کا کوئی حکم بھی چھوٹا نہیں چھوٹا۔ وَلَقَدْ يَشَرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ القمر: ۳۲) کے (۳۳: معنی عمل کے بھی ہوتے ہیں۔ یعنی ہم نے قرآن کو عمل کے لئے آسان کر دیا ہے۔ پیارے کی ہر چیز پیاری ہوتی ہے اور بڑے کی ہر چیز بڑی۔ یاری ہوتی ہے اور پودے کی ہر چیز پس خدا کے کسی حکم کو چھوٹا نہ سمجھو ۔ البتہ چھوٹا یوں ہو سکتا ہے کہ اس کی سزا کم رکھی ہے۔ ورنہ یوں تو خدا کی ہر ایک نافرمانی بڑی بات ہے۔ میں تو کفر کا مسئلہ بھی اسی طرح حل کیا کرتا ہوں کہ نبی کا انکار بذاتہ کفر مسئلہ کفر کا حل نہیں۔ وہ تو ہمار وہ تو ہمارے جیسا ہی ایک انسان ہوتا ہے بلکہ اس وحی کا انکار کفر ہے جو اس پر نازل ہوتی ہے۔ اب یہ کہنا فضول ہے کہ فلاں نبی کا انکار کفر نہیں اور فلاں کا ہے۔ کیا خدا کا کلام بھی چھوٹا ہوتا ہے۔ وہ جیسا رسول اللہ پر نازل ہوا ویسا ہی مسیح موعود علیہ السلام پر۔ أُولَئِكَ هُمُ الْكَفِرُونَ حَقًّا حقا (النساء : (۱۵۲) کا فتوی انبیاء کے تمام منکرین پر یکساں موجود ہے۔ ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ کسی منکر میں ایک سے زیادہ کفر جمع ہو گئے بوجہ ایک سے زیادہ نبیوں کی نافرمانی کے اور کسی میں ایک بوجہ ایک نبی کی نافرمانی کے باوجود اس کے بہ لحاظ ایک ایک نبی کی نافرمانی کے وہ سب برابر ہیں یعنی گروہ کفار میں شامل۔ بات تو کچھ اور کہنی تھی اور وہ یہ کہ رسول کریم کا یہ طریق تھا کہ شملہ جانے کا ارادہ آپ جب باہر تشریف لے جاتے تو ایک یا دو امیر مقرر کر جاتے ایک نماز کا اور ایک انتظامی امور کا۔ میرا ارادہ ہے کہ کل اگر اللہ چاہے تو کچھ دنوں کے لئے باہر جاؤں۔ بغرض تبدیلی آب و ہوا کیونکہ طبیعت کمزور ہے۔ اس لئے میں رسول کریم ﷺ کی سنت ایک منتظم کا تقرر اور اس کی ضرورت کے مطابق دور امیر مقرر کرتا ہوں۔ اس سنت کی عدم پیروی نے مسلمانوں کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔ بادشاہوں نے جماعت نماز کی امامت چھوڑ