انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 461 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 461

لوم جلد ۴ نقصان ہوتا ہے۔آزمائش کے بعد ایمان کی حقیقت کھلتی ہے تو جو انسان جذبات سے جذبات کا مقابلہ کر کے صداقت پر قائم رہنا بہادری ہے متأثر ہو کر صداقت یا اپنے فیصلہ پر قائم نہ رہ سکے اس کا پہلا فیصلہ فیصلہ کہلانے کا مستحق نہیں۔ایک شخص خیال کرتا ہے کہ خدا کا حکم ہے کہ رشوت نہ لوں مگر دوسری طرف جذبہ محبت ہے کہ وہ دیکھتا ہے کہ اولاد بھوکی ہے بیوی کے تن پر کپڑا نہیں۔اس وقت باوجود جاننے کے کہ رشوت ستانی خدا کے حکم کے خلاف ہے ، وہ شخص اس جذبہ محبت کے زیر اثر رشوت لے لیتا ہے اگر چہ دل میں وہ سمجھتا تھا کہ اس کو خدا سے محبت ہے اور وہ اظہار بھی کرتا تھا مگر جب موقع آیا تب کھل گیا کہ خدا کی محبت کا دعوی بے دلیل تھا۔اسی طرح بہت لوگ جھوٹ کو برا جانتے ہیں مگر جب وہ خیال کریں کہ کسی دوست کی جان جھوٹ بول کر بیچ سکتی ہے تو وہ جھوٹ بولنے میں دریغ نہیں کرتے اور اس طرح پتہ لگ جاتا ہے کہ خدا کی محبت اور جھوٹ سے نفرت قبل از امتحان کا ایک خیال تھا۔غرض اب آپ کے امتحان کا وقت آیا ہے ایک طرف آپ کے جذبات ہیں امتحان کا وقت اور علائق ہیں رشتہ دار ہیں، طبعی محبت ابھرتی ہے اور وہ قرب ظاہری کے ساتھ باطنی قرب بھی چاہتی ہے ایسی حالت میں بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ ہم کیوں ایسی بات کریں جس سے ہمارے ان متعلقین کو تکلیف پہنچے۔باپ کو رنج ہو ماں دکھ اٹھائے آپ شادی شدہ ہیں اور بیوی کی محبت ایک فطری اور قدرتی محبت اور تقاضا ہے۔سوائے ان لوگوں کے جن کی فطرت مسخ ہو گئی سب انسانوں میں محبت ہوتی ہے اور یہ محبت اللہ تعالیٰ کی خاص حکمت کے ماتحت ہوتی ہے کیونکہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے مدنی الطبع پیدا کیا ہے۔ہر شخص کا دوسرے شخص پر سہارا ہوتا ہے تو بالطبع انسان چاہتا ہے کہ کوئی دوست بنائے چونکہ انسان دوست بنانے میں غلطی کر سکتا ہے اس لئے اللہ تعالٰی نے اس قسم کے جذبات انسان میں رکھے کہ جن کے ہونے سے ایک مرد عورت کو اپنے لئے دوست اور غمگسار بنالیتا ہے اور ایک عورت ایک مرد کو غمگسار بنالیتی ہے پس بیوی کی محبت ایک فطری امر ہے جس کو بناوٹ سے تعلق نہیں۔پس بیوی کی محبت بھی اپنی طرف کھینچتی ہے۔یہ تمام تعلقات اور جذبات کسوٹی کی طرح ہیں۔ان پر پر کھے جانے کے بعد دعوئی ثابت ہو سکتا ہے۔سونا وہی قابل تسلی ہے جو کسوٹی پر لگانے سے خالص ثابت ہو۔جب انسان ان آزمائشوں میں پورا اترا اور ان باتوں نے اس پر کوئی اثر نہ کیا تو معلوم