انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 455 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 455

انوار العلوم جلد ۴ ۴۵۵ آزمائش کے بعد ایمان کی حقیقت کھلتی ہے بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ آزمائش کے بعد ایمان کی حقیقت کھلتی ہے (مسٹر ساگر چند بیر سٹرایٹ لاء کو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی نصائح فرموده ۶ - و سمبر ۱۹۱۹ ء بیت المبارک قادیان) معمول کی ابتدائی گفتگو کے بعد حضور نے فرمایا:- اب جبکہ آپ ولایت سے واپس آگئے ہیں آپ کی روحانی اور ایمانی ترقی کا وقت روحانی اور ایمانی ترقی کا وقت ہے۔جو لوگ وہاں جاتے ہیں ان میں سے بہت سے اپنے پہلے مذہب کو بدل لیتے ہیں۔کتنوں پر وہاں کی آزادی کا اثر پڑتا ہے اور کتنوں ہی پر وہاں کی موجودہ عیسائیت اپنا اثر کرتی ہے اور بہت سے وہاں کے تمدن میں جذب ہو جاتے ہیں لیکن جب وہ لوگ وہاں سے واپس آتے ہیں تو ان کے پرانے تعلقات پھر ان کو اپنی طرف کھینچنا شروع کر دیتے ہیں۔یہ ثابت شدہ حقیقت ہے کہ دو چیزیں ہیں جو انسان پر بہت مؤثر ثابت ہوتی ہیں۔(1) تعلقات جن کو غالباًا انگریزی میں ایسوسی ایشن کہتے ہیں اور دوسری چیز جذبات اور احساسات جن کو انگریزی میں فیلنگز (FEELINGS) کہتے ہیں اثر انداز ہوتے ہیں۔وہ بڑے بڑے کام جو یوں محنت اور مشقت سے نہ ہو سکیں مگر جب جذبات کو جذبات کا اثر ابھار دیا جائے تو فورا ہو جاتے ہیں۔تمام علوم اور ہنر اور تحقیقا تیں جذبات کے مقابلہ میں بسا اوقات دھری رہ جاتی ہیں۔تاریخ اس امر کی شاہد ہے کہ حکومتوں نے جذبات کے ماتحت پلٹے کھائے ہیں مثلا دلی کی حکومت کا آخری چراغ جب گل ہوا تو اس وقت ایک ایسا وقت بھی آیا کہ انگریزوں کی پوزیشن سخت نازک ہو گئی تھی۔بادشاہ کی بیگم جس کا نام زینت محل تھا کہتے ہیں کہ اگر اس کے مکان کے سامنے توپ خانہ رکھا جاتا اور وہاں سے گولہ باری کی جاتی