انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 441 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 441

اسلام سلام ترکی کا مستقبل اور مسلمانوں کا فرض اپنے تمدن کے متعلق جو کچھ نقصان اٹھایا ہے وہ مخفی امر نہیں ہے۔اور ہر ایک شخص جو ان ممالک کے حالات سے آگاہ ہے اس امر سے واقف ہے۔اور پھر عربوں نے جو کچھ قربانی اس آزادی کے حصول کے لئے کی ہے وہ بھی چھپی ہوئی بات نہیں۔عرب کی غیرت قومی جوش مار رہی ہے اور اس کی حریت کی رگ پھڑک رہی ہے۔انہیں اب کسی صورت میں ان کی مرضی کے خلاف ترکوں کے ساتھ وابستہ نہیں کیا جا سکتا۔تیرہ سو سال کے بعد اب وہ پھر اپنی چار دیواری کا آپ حاکم بنا ہے۔اور اپنے حسن انتظام اور عدل و انصاف سے اس نے اپنے حق کو ثابت کر دیا ہے۔اس کے متعلق کوئی نئی تجویز نہ کامیاب ہو سکتی ہے نہ کوئی معقول انسان اس کو قبول کر سکتا ہے نہ عرب اسے ماننے کے لئے تیار ہے۔حجاز کا آزاد رہنا ہی اب اسلام کے لئے مفید ہے۔وہ بنسبت ترکی سلطنت کا جزو ہونے کے علیحدہ حکومت کے رنگ میں زیادہ مفید ہے۔مقامات مقدسہ کا ایک چھوٹی اور نظر طمع سے بچی ہوئی سلطنت میں رہنا بہت بہتر ہے۔پس اس سوال کو ہمیشہ کے لئے فیصل شدہ خیال کرنا چاہئے۔تیسری ضروری بات یہ ہے کہ مناسب مشورہ کے بعد اس غرض کے لئے ایک کو نسل مقرر کی جاوے جس کا کام ترکی حکومت کی ہمدردی کو عملی جامہ پہنانا ہو۔صرف جلسوں اور لیکچروں کام نہیں چل سکتا نہ روپیہ جمع کر کے اشتہاروں اور ٹریکٹوں کے شائع کرنے سے نہ انگلستان کی کمیٹی کو روپیہ بھیجنے سے بلکہ ایک باقاعدہ جدوجہد سے جو دنیا کے تمام ممالک میں اس امر کے انجام دینے کے لئے کی جاوے۔یہ زمانہ علمی زمانہ ہے اور لوگ ہر ایک بات کے لئے دلیل طلب کرتے ہیں۔پس ضروری ہے کہ اپنے مدعا کی تائید کے لئے دلائل جمع کئے جائیں۔اور جن لوگوں کے اختیار میں ان امور کا فیصلہ ہے ان کو دلائل کے زور سے منوایا جائے تلوار کے ساتھ ساڑھے چار سال میں پچھلی جنگ کا خاتمہ ہوا ہے۔لیکن تلوار ایک دم میں دشمن کا فیصلہ کر دیتی ہے۔دلیل ایک دم میں کسی کے دل کو نہیں پھیرتی اس کے لئے زیادہ محنت کی ضرورت ہے۔گو یہ فرق ضرور ہے کہ ایک تلوار چند محدود آدمیوں کے مقابلہ میں چلائی جاسکتی ہے۔لیکن دلیل ایک وقت میں کئی ہزار بلکہ لاکھ آدمی کے سامنے پیش کی جاسکتی ہے۔پس اس مشکل کام کو پورا کرنے کے لئے باقاعدہ انتظام ہونا چاہئے۔اور اسی طرح سنجیدگی سے کام کرنا چاہئے جس طرح کہ دوسری اقوام کر رہی ہیں۔بے فائدہ کام دانا کا کام نہیں اور اس کے کرنے سے اس کا نہ کرنا اچھا ہے۔یہ یاد رکھنا چاہئے کہ برطانیہ اگر پورے طور پر مسلمانوں کے خیالات