انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 437 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 437

انوار العلوم جلد ۴ ۴۳۷ ترکی کا مستقبل اور مسلمانوں کا فرض نہیں۔بھی جنگ میں حصہ لینے والی حکومتوں کے سینکڑوں آدمی دن اور رات محنت سے کام کر رہے ہیں۔اور اس بات کو خوب محسوس کرتے ہیں کہ بہت سے نادان میدان جنگ میں فتح پا کر صلح کے کمرہ میں شکست کھا جایا کرتے ہیں۔ہر ایک قوم اپنے فوائد پر نظر جمائے بیٹھی ہے اور ایک لحظہ کے لئے ان کو آنکھوں سے اوجھل نہیں ہونے دیتی۔اور اس قدر قربانیوں کے بعد وہ اس امر کو برداشت بھی کب کر سکتی ہے کہ وہ فوائد جو اس کا حق ہیں یا جن کا حاصل کرنا وہ اپنا حق مجھتی ہے یوں ہی اس کے ہاتھوں سے نکل جاویں۔پس اس کام میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے آپ لوگوں کو سمجھ لینا چاہئے کہ یہ کام معمولی کام ترکوں نے میدان جنگ میں شکست کھائی ہے اور اب وہ مغلوب و مفتوح قوم کی ہے۔حیثیت میں ہیں۔ان پر فتح پانے والے ان کے مقبوضہ ممالک کو اپنا جائز حق سمجھتے ہیں اور ان کو آپس میں تقسیم کر لینا یا ان کی حکومت میں اپنے نشاء کے ماتحت تبدیلی کر دینا ان کے نزدیک عدل و انصاف کے بالکل مطابق ہے۔پس وہ کسی قوم یا کسی فرقہ کے کہنے سے اپنے حقوق کو نہیں چھوڑ سکتے۔ان کو اس بات پر آمادہ کرتا کہ وہ ترکوں کی سابقہ مملکت کو بلا کسی تبدیلی کے چھوڑ دیں یا تبدیلی کریں تو بہت کم ، شیر کے مونہہ سے اس کا شکار چھڑانے سے بہت زیادہ مشکل ہے۔ہم اس ملک میں دیکھتے ہیں کہ چھوٹے چھوٹے حق کے لئے قومیں آپس میں لڑتی ہیں اور اس کو چھوڑنے پر تیار نہیں ہوتیں۔تو ایک سلطنت کے معاملہ میں اور پھر ایسی سلطنت کے معاملہ میں جس کا قیام ان کے نزدیک ان کی تہذیب کی حیات و موت کا سوال ہے کانفرنس صلح میں بیٹھنے والی اقوام سے یہ امید کیوں کر کی جا سکتی ہے کہ وہ ہمارے جلسوں یا ہماری تقریروں سے متأثر ہو کر اپنے مزعومہ حقوق سے فورا دستبردار ہو جاویں۔اس کے لئے کوشش کی ضرورت ہے اور محنت کی حاجت ہے۔پھر کوشش و محنت بھی وہ جو جوانوں کو بوڑھا کر دے اصول اتحاد پر مبنی ہو اور سوچ سمجھ کر صحیح ذرائع سے کی جاوے اور اس میں مال و وقت کی قربانی سے دریغ نہ کیا جاوے۔جب کہ وہ لوگ جو پہلے سے آپس میں معاہدات کر چکے ہیں جو اتحادیوں کی حیثیت رکھتے ہیں جو ایک مذہب وملت کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں ایک قسم کی تہذیب کے اثر کے نیچے ہیں ان معاملات کے تصفیہ کے لئے ہزاروں کی تعداد میں ایک مقام پر جمع ہیں۔اور ہزاروں نہیں لاکھوں اپنے اپنے گھروں میں اس کام کو ٹھیک طور پر سرانجام دینے میں مشغول ہیں۔کمیشن مقرر کرتے ہیں سب کمیٹیاں بٹھاتے ہیں ہر قسم کے علوم و فنون کے