انوارالعلوم (جلد 4) — Page 433
و العلوم جلد ۴ ۳۳ مهم ترکی کا وں کا فرض أَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرُّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هو الناصر مجھے کل سترہ ۱۷ تاریخ کو ایک مطبوعہ اعلان ملا ہے جس پر دستخط کرنے والوں میں سے بعض ہندوستان کے سر بر آوردہ اصحاب بھی ہیں۔اس اشتہار میں اس بات کا اظہار کیا گیا ہے کہ ترکی حکومت کا مستقبل بحالت موجودہ سخت خطرہ میں ہے۔اس لئے سب مسلمانوں کو مل کر اس پر صدائے احتجاج بلند کرنی چاہئے تاکہ اصحاب حل و عقد کو معلوم ہو جائے کہ اس مسئلہ میں مسلمانوں کو کیسی گہری دلچسپی اور لگاؤ ہے۔یہ اشتہار مجھے بھی بھیجا گیا ہے اور اس کے ساتھ ہی ایک مطبوعہ چٹھی سید ظہور احمد صاحب وکیل سیکرٹری مسلم کانفرنس کی طرف سے بھی مجھے ملی ہے جس میں اس جلسہ میں شمولیت کی دعوت دی گئی ہے۔اور اس پر مکرم جناب مولوی محمد سلامت اللہ صاحب فرنگی محل نے بھی اپنی جانب سے شمولیت جلسہ کی تاکید کی ہے۔چونکہ میں بوجہ بیماری کے اور بوجہ اس کے کہ مجھے وہاں جانے میں کوئی خاص فائدہ نظر نہیں آتا وہاں بذات خود نہیں جا سکتا اس لئے میں بذریعہ اس تحریر کے جو اپنے قائمقاموں کے ہاتھ بھیجا ہوں اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ اس مخلصانہ مشورہ پر کافی طور پر غور کیا جاوے گا۔ترکوں کے مستقبل کا سوال ایک ایسا سوال ہے کہ جس سے طبعاً ہر ایک مسلمان کہلانے والے کو دلچسپی ہونی چاہئے اور ہے۔اور جب تک ان سے ہمدردی کرنی اور ان کی موافقت کرنی شریعت کے کسی اور حکم کے خلاف نہ آپڑے ضروری اور لازمی ہے۔جب تک ترک گورنمنٹ برطانیہ سے بر سر پیکار رہے مسلمانان ہند کی ایک کثیر تعداد ہتھیار بند ہو کر ان کے