انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 425 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 425

دم جلد ۴ ۴۲۵ خطاب جلسہ سالانہ کے امارچ ۱۹۱۹ء نہیں بلکہ بہت سی شہادتوں کی ضرورت ہے۔اور اب تمہیں وہاں جانا پڑے گا جہاں ممکن ہے جانیں بھی دینی پڑیں۔کیونکہ ہر جگہ تمہیں انگریزی حکومت نہیں ملے گی۔بلکہ ایسے بھی ملک ہوں گے جہاں تمہیں بیدردی سے قتل کر دینا روا رکھا جائے گا۔مجھے کئی ایسے علاقوں کا علم ہے جہاں عیسائیوں کی مشنری عورتیں قتل کی گئیں۔لیکن وہاں اوروں نے جانا چھوڑ نہیں دیا بلکہ پہلے سے بھی زیادہ گئی ہیں۔پس جب عیسائیوں کی عورتیں مذہب کے لئے قتل ہونے کی کوئی پرواہ نہیں کرتیں تو کیا ہمارے مرد اس کے لئے تیار نہ ہوں گے ؟ میں جانتا ہوں کہ ہزاروں تیار ہوں گے۔مگر میں انہیں متنبہ کرتا ہوں کہ ابھی سے تیار ہو جائیں کیونکہ خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ احمدیت کو تمام دنیا میں پھیلا دے۔میں نہیں جانتا کہ وہ زمانہ کب آئے گا جب ساری دنیا میں احمدیت پھیل جائے گی۔لیکن میں یہ جانتا ہوں کہ ایسا زمانہ آئے گا ضرور جو زندہ رہیں گے وہ دیکھیں گے اور جو مر جائیں گے وہ آسمان پر اس کا نظارہ ملاحظہ کر سکیں گے۔کیونکہ اب ہمارے لئے کامیابیوں کے دروازے کھلنے والے ہیں اور وہ ضرور کھلیں گے۔لیکن اپنے مالوں اپنی جانوں اپنی عزتوں، اپنی آبروؤں کے چڑھاوے چڑھا کر اپنے ملکوں میں، اپنے وطنوں اپنے عزیزوں اپنے رشتہ داروں کے چڑھاوے دے کر۔اور جس وقت یہ دروازے کھل جائیں گے۔اس وقت دنیا میں تمہاری وہ عزت اور وہ شان ہو گی کہ آج جو لوگ بڑے بڑے سمجھے جاتے ہیں یہ یا ان کے پیچھے کھڑے ہونے والے تمہارے پاؤں کی خاک کو سرمہ بنانا اپنا فخر مجھیں گے۔آج تم ذلیل سمجھے جاتے ہو تمہیں کوئی عزت حاصل نہیں لیکن وہ وقت آنے والا ہے جب تمہارے ساتھ تعلق رکھنا لوگ اپنی عزت سمجھیں گے۔دیکھو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی اسلام سے پہلے کی کیا حالت تھی۔جب آپ خلیفہ ہوئے آپ کے والد زندہ تھے۔کسی نے نے ان کو جاکر خبر دی کہ مبارک ہو ابو بکر خلیفہ ہو گیا۔انہوں نے پوچھا۔کو نسا ابو بکر ؟ اس نے کہا آپ کا بیٹا۔اس پر بھی انہیں یقین نہ آیا اور کہا کوئی اور ہو گا۔لیکن جب ان کو یقین دلایا گیا۔تو انہوں نے کہا اللہ اکبر - محمد ال کی بھی کیا شان ہے کہ ابو قحافہ کے بیٹے کو عربوں نے اپنا سردار مان لیا ر البداية والنهاية جلد 2 صفحه ۵۰ مطبوعہ بیروت ) غرض وہ ابو بکر جو دنیا میں کوئی بڑی شان نہ رکھتا تھا محمد ﷺ کے طفیل اس قدر عزت پا گیا کہ اب بھی لاکھوں کی انسان اس کی طرف اپنے آپ کو فخر کے ساتھ منسوب کرتے ہیں۔پس تم آج ذلیل اور حقیر سمجھے جاتے ہو مگر ان قربانیوں کے بعد تمہیں وہ عزت اور تو قیر حاصل ہو گی جو چاند اور سورج کو