انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 418 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 418

لوم جلد ۴ ۴۱۸ خطاب جلسہ سالانہ سے امار ستون سمجھتے ہیں بلکہ میرے ذریعہ کھڑا ہے۔اور میں اسے اس پر کھڑا کر سکتا ہوں جس کو تم ناگا سمجھتے ہو۔پس چونکہ خدا تعالٰی نے مجھے توحید کے دکھلانے اور شرک کے مٹانے کے لئے کھڑا کیا ہے۔اس لئے یہاں میرے علم، میری قابلیت کا سوال نہیں بلکہ خدا کے فضل کا سوال ہے کہ وہ کس کے ساتھ ہے۔حضرت مسیح موعود کو خدا تعالیٰ کی طرف سے جو علم دیا گیا اس کا جب مخالفین مقابلہ نہ کر سکے تو انہوں نے کہدیا کہ مرزا صاحب نے عرب چھپا کر رکھا ہوا ہے اس سے عربی لکھواتے ہیں۔پھر کہتے کہ مولوی نور الدین صاحب عربی لکھ کر دیتے ہیں حالانکہ حضرت مولوی صاحب نے حضرت مسیح موعود کو عربی کیا لکھ کر دینی تھی۔جب آپ فوت ہو گئے تو اس کے بعد مولوی صاحب نے اردو میں بھی کوئی کتاب نہ لکھی۔پھر کچھ ایسے لوگ تھے جو کہتے تھے کہ یہ سلسلہ مرزا صاحب پر چل رہا ہے۔کیونکہ یہ بڑے ساحر اور ہوشیار ہیں۔لیکن جب آپ کو خدا نے وفات دی اس سال سالانہ جلسہ پر سات سو آدمی آئے تھے اور بڑی خوشی کا اظہار کیا گیا تھا۔مگر آپ کی وفات کے بعد ترقی کی طرف جماعت کا قدم بڑھتا ہی گیا۔اور چھ سال کے بعد جو جلسہ ہوا۔اس میں ۲۳ سو کے قریب آدمی آئے۔پھر اس وقت یہ کہا گیا کہ اصل بات مولوی نور الدین صاحب ہی کی تھی۔یہ مشہور طبیب ہے اور بڑا عالم اس لئے لوگ اس کے پاس آتے ہیں اس کی وفات کے بعد یہ سلسلہ مٹ جاوے گا۔یہ تو مولوی وغیرہ کہتے۔اور جو نئے تعلیم یافتہ تھے وہ یہ خیال کرتے کہ کچھ انگریزی خواں ہیں ان پر یہ سلسلہ چل رہا ت ہے۔جب لوگوں میں اس قسم کے خیالات پیدا ہونے شروع ہوئے تو خدا نے نہ چاہا کہ اس کے سلسلہ کے قیام میں کسی انسان کا کام شامل ہو اس لئے ادھر تو اس نے حضرت مولوی نورالدین جیسا جلیل القدر انسان دفات دیگر جدا کرایا اور ادھر وہ لوگ جو اس سلسلہ کے رکن سمجھے جاتے تھے ان کو توڑ کر الگ کر دیا۔اور اس کے بعد جو جلسہ ہوا اس پر خدا نے دکھا دیا کہ اس کی ترقی میں کسی انسان کا ہاتھ نہیں۔چنانچہ اس سال تین ہزار کے قریب لوگ آئے اور کئی سونے بیعت کی۔تو ان سب کو الگ کر کے خدا تعالیٰ نے مجھ جیسے کمزور کے ذریعہ اپنے سلسلہ کو ترقی دے کر بتایا کہ اس میں کسی انسان کا دخل نہیں ہے بلکہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ خدا ہی کے فضل سے ہو رہا ہے۔ہاں ہر ایک کے ایمان کے مطابق اس سے سلوک کیا۔حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اول سے ان کے ایمان کے مطابق سلوک کیا اور ان کے مدارج کو بلند کیا۔اور ان لوگوں سے ان کے ایمان کے مطابق سلوک کیا اور جماعت سے علیحدہ کر دیا۔ہم خدا کے ہاتھ