انوارالعلوم (جلد 4) — Page 407
العلوم جلد خطاب جلسہ سالانہ ۱۷ مارچ ۱۹۱۹ء ان لوگوں کی سخت کلامی کو اور اپنی مجبوری کو دیکھ کر خون کے آنسو روتے رہے ہیں۔اور جوش میں ایسا ہی ہوا کرتا ہے۔ایک دفعہ ایک شخص حضرت مسیح موعود کے متعلق بعض لوگوں کی بد کلامی سن کر ان سے لڑ پڑا۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو معلوم ہوا۔تو آپ نے اسے نصیحت کی کہ ایسے موقع پر صبر سے کام لینا چاہئے۔وہ شخص سخت جوش سے بھرا ہوا تھا بے اختیار کہہ اٹھا کہ ہم سے ایسا نہیں ہو سکتا۔آپ کے پیر ( محمد ) کو جب کوئی گالی دے تو آپ اس کے ساتھ مباہلہ کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔لیکن ہمیں یہ ارشاد فرماتے ہیں کہ اپنے پیر ( حضرت مسیح موعود) کے متعلق گالیاں سن کر صبر کریں۔اس کی یہ بات سن کر اور اس کے غضب کو دیکھ کر حضرت مسیح موعود اس وقت مسکرا کر خاموش ہو رہے۔تو جوش ایک طبعی تقاضا ہے۔جو ایک حد تک جائز ہوتا ہے۔لیکن میں نے اخباروں کو روکے رکھا۔اس وجہ سے غیر مبائعین کی درشت کلامی بڑھتی گئی۔اور اب انہیں ڈر پیدا ہوا ہے کہ اگر ادھر سے بھی جواب دیا گیا تو مشکل پڑ جائے گی۔اس وجہ سے انہیں تختی کو ترک کرنے کا خیال پیدا ہوا ہے۔مگر یہ ایسا ہی خیال ہے جیسا کہ کسی کو تھپڑ مار کر کہا جائے کہ اب صلح کر لو۔اس طرح صلح نہیں ہو سکتی۔صلح اسی وقت ہو سکتی ہے جب کہ یا تو جو لینا ہو لے لیا جائے اور جو دینا ہو دید یا جائے۔کیونکہ یہ مخالف کی مخالف سے صلح ہے۔بھائی بھائی کی صلح نہیں اور یا پھر وہ زہر جو پھیلایا گیا ہو اس کا ازالہ کر دیا جاوے۔لیکن خیر ہم اس شرط کو مان لیتے ہیں کہ ایک دوسرے کے متعلق سخت الفاظ استعمال نہ کئے جائیں۔مگر اس کے ساتھ دوسری بات وہ یہ پیش کرتے ہیں کہ ایک دو سرے کے پیچھے نماز پڑھ لی جایا کرے۔لیکن اس شرط کے مان لینے کے یہ معنی ہیں کہ گویا ہم اپنے ہاتھ آپ کاٹ دیں۔ہمارا اختلاف کسی جدی وراثت کے متعلق نہیں ہے کہ فلاں نے زیادہ مال لے لیا اور فلاں نے کم بلکہ ہمارا اختلاف دین کے متعلق ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا اللِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِى الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأَوْلَئِكَ هُمُ الفَسِقُونَ (النور : ۵۶) ہم تو قرآن کریم کے اس ارشاد کے ماتحت اختلاف کرتے ہیں کہ جو ایسے خلیفہ کو نہیں مانتا وہ فاسق ہے۔اب ایک طرف تو ہم کہیں کہ جو خلیفہ کو نہیں مانتا وہ فاسق ہے۔اور دوسری طرف اعلان کریں