انوارالعلوم (جلد 4) — Page 403
۰۳م خطاب جلسہ سالانہ ۱۷ مارچ ۱۹۱۹ء رالعلوم جلد ۴ که سب ہیں کہ وہ انہیں نوکر کرائیں۔اسی طرح تعلیم کے مختلف شعبوں کے متعلق خیال رکھنا اس صیغہ کا کام ہو گا۔لوگوں میں عام طور پر بھیڑ چال ہوتی ہے۔مثلاً اگر وہ دیکھتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کر کے فائدہ اٹھایا ہے تو وہ اس کے حصول میں لگ جاتے ہیں۔لیکن کوئی قوم اور خصوصا وہ قوم جو ابھی ابتدائی حالت میں ہو۔اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک قسم کے تعلیم یافتہ لوگ اس میں نہ پائے جاتے ہوں۔میرے خیال میں آجکل مسلمانوں کو اس بات سے بہت نقصان اٹھانا پڑا ہے کہ ان میں سے بہت ہی کم لوگوں نے انجینئری کی تعلیم کی طرف توجہ کی ہے۔اور عام طور پر یہ صیغہ ہندوؤں کے قبضہ میں ہے۔اگر مسلمان اس طرف خاص توجہ کرتے تو اپنی قوم کے لوگوں کو جائز طور پر بہت فائدہ پہنچا سکتے تھے۔کیونکہ اس محکمہ کے آفیسروں کے اختیار میں کئی قسم کے ٹھیکے وغیرہ دینے کا کام ہوتا ہے جو آج کل عام طور پر ہندوؤں ہی کو ملتے ہیں۔اور اگر کسی مسلمان کو مل بھی جائے تو اس کام میں نقص نکال کر اس کے اپنے سرمایہ کو بھی تباہ کر دیا جاتا ہے۔اس سٹیج پر ایک صاحب بیٹھے ہیں ان کے ایک بزرگ کو ٹھیکہ کے معاملہ میں ہی انجینئر نے اس قدر نقصان پہنچایا کہ ان کی اپنی جائیداد جو کروڑوں کی تھی تباہ و برباد ہو گئی پس ہمارے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ نئے تعلیم پانے والوں کی خبر لیتے رہیں اور ان کے لئے انکے مذاق اور قابلیت کے مطابق تعلیم کا انتظام کریں اور انہیں ترغیب دیں کہ وہ ان مختلف شعبہ ہائے تعلیم میں تقسیم ہو جائیں جو آئندہ ان کی ذات کے لئے بھی اور جماعت کے لئے بھی مفید ثابت ہوں۔اسی طرح شادی بیاہ کے معاملات ہیں بہت سے لڑکے اور لڑکیوں کے لئے آسانی کے ساتھ انتظام نہیں کیا جا سکتا۔وجہ یہ کہ ایک دوسرے کو پتہ نہیں ہو تاکہ کہاں رشتہ ہو سکتا ہے۔یہ بھی اس صیغہ کا کام ہو گا کہ بن بیا ہے لڑکے اور لڑکیوں کی فہرستیں تیار کرے۔اور ان کے رشتے ناطے میں آسانیاں پیدا کرے۔غرض اس طرح کے اور بہت سے کام جو نکلتے رہیں۔وہ سب اسی صیغہ کے متعلق ہوں گے۔پھر ہماری جماعت کے لوگوں میں اگر کسی جگہ کوئی جھگڑا پیدا ہو جائے تو وہ عدالت میں جاتے ہیں جس سے احمدیت کی ذلت ہوتی ہے۔ابتداء میں جب ابھی جھگڑے کی بنیاد ہی پڑتی ہے اس وقت تو ہمارے پاس اس لئے نہیں آتے کہ چھوٹی سی بات کے متعلق انہیں کیا تکلیف دیں۔لیکن جب بات بڑھ جاتی ہے تو پھر اس خیال سے ہمارے سامنے پیش کرنے سے جھجھکتے ہیں کہ وہ کہیں گے پہلے کیوں ہمیں نہ بتایا اور کیوں جھگڑے کو اتنا بڑھایا۔محکمہ قضاء