انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 402 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 402

انوار العلوم جلد ۴ ۴۰۲ خطاب جلسہ سالانہ ۱۷ مارچ ۱۹۱۹ء جاوے کہ اپنے بچوں کی تعلیم کا انتظام کرے۔ایسے لوگ خواہ کہیں رہتے ہوں ان کے بچوں کی تعلیم و تربیت کی نگرانی یہ صیغہ کرے گا اور ممکن سہولتیں مہیا کرنا اس کا فرض ہو گا۔اس طرح تمام جماعت کے بچوں پر اس صیغہ کی نظر ہو گی۔پھر جو شخص فوت ہو جائیگا۔اس کی اولاد کے متعلق یہ دیکھا جائے گا کہ اس کی تعلیم و تربیت کا کیا انتظام ہے۔اس کے رشتہ داروں نے کچھ کیا ہے یا نہیں۔اگر کیا ہے تو وہ تسلی بخش ہے یا نہیں اور کس قدر امداد دینے کی ضرورت ہے۔ان تینوں صیغوں کے علاوہ ایک صیغہ متفرق امور کے لئے بنایا گیا ہے۔یام صیغه امور عامه اس کے سپرد کئی باتیں ہونگی اول تو یہ کہ گورنمنٹ کے ساتھ ہماری جماعت کے جو تعلقات ہیں ان کو محفوظ رکھا جائے اور کسی قسم کا نقصان نہ پہنچنے دیا جائے۔یہاں پنجاب میں تو اگر ہمارے خلاف کوئی کارروائی کی جاتی ہے۔اور گورنمنٹ کو ہم سے بدظن کرنے کے لئے کوئی چال چلی جاتی ہے تو اس کا ہمیں حکام سے پتہ لگ جاتا ہے۔لیکن یوپی بہار بنگالہ وغیرہ میں احمدیوں کے خلاف اگر کوئی کوشش کی جاوے تو بوجہ مرکز کے بعد کے نہ ان کا ہمیں علم ہو سکتا ہے اور نہ ہم اس کا ازلہ کر سکتے ہیں۔اور وہاں کی جماعتیں اس قدر طاقت نہیں رکھتیں کہ خود یہ کام کر سکیں۔پس ضروری ہے کہ مرکز اس بات کی احتیاط رکھے۔یا مثلاً کہیں ہماری جماعت کے لوگوں کو افسروں سے بوجہ انکی ناواقفیت کے یا دوسرے لوگوں تکلیفیں پہنچتی ہیں تو ان کا پتہ لگایا جاوے اور ان کے دور کرنے کی کوشش کی جائے۔اسی طرح اور کئی طریق سے جو ہماری مخالفت کی جاتی ہے اس کا بھی خیال رکھا جائے۔اور ان کے نقصانات سے بچنے کا انتظام کیا جائے۔اس طرح اس محکمہ کا فرض مقرر کیا گیا ہے کہ احمدی جماعت کی دنیاوی ترقیات کے متعلق خیال رکھے۔مثلاً جو لوگ بے کار ہیں انہیں کام پر لگانے کی کوشش کی جائے کیونکہ اگر ایک حصہ بے کار ہو تو اس کا ساری جماعت پر اثر پڑتا ہے۔اور ان کے کام پر لگنے سے جماعت کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔مثلاً پچاس آدمی ایسے ہوں جو ملازمت کرنے کی قابلیت رکھتے ہوں۔لیکن نا واقف ہونے کی وجہ سے کسی جگہ ملازم نہ ہو سکیں تو ان کا بار جماعت کے افراد پر ہی پڑے گا۔اور اگر وہ ملازم ہو جائیں تو نہ صرف دو سروں پر بوجھ نہیں رہیں گے بلکہ خود بھی جماعت کے کاموں میں چندہ دے سکیں گے۔پس اس صیغہ کا یہ بھی کام ہو گا کہ ایسے لوگوں کی فہرستیں تیار کرے جو ملازمت تو کر سکتے ہیں۔لیکن ناواقفیت کی وجہ سے ملازم نہیں ہو سکتے اور ان کے متعلق ایسے لوگوں کو لکھا جائے۔جو ملازمتیں تلاش کر سکتے