انوارالعلوم (جلد 4) — Page 382
انوار العلوم جلد ۴ ۳۸۲ عرفان الهی البر والصلة باب ما جاء في الستر على المسلمين ) لیکن اکثر لوگ غیبت کی تعریف نہ جاننے کی وجہ سے اسکے مرتکب ہوتے ہیں۔ مختلف گناہوں کی تعریفیں کسی طرح معلوم ہوں اب یہ سوال ہو سکتا ہے کہ تعریفیں کس طرح معلوم ہوں۔ اس کے متعلق اول تو وہی صورت ہے جو میں نے بتائی ہے کہ استاد سے سیکھو۔ لیکن چونکہ استاد سے بھی تمام جزءی باتیں دریافت نہیں ہو سکتیں۔ اس لئے ایک گر بتاتا ہوں۔ اور وہ یہ ہے کہ خدا نے انسان میں ایسا غیرت کا مادہ رکھا ہے کہ وہ ایک فعل خود تو کر لیتا ہے لیکن اس فعل کو اگر کوئی اور اس کے سامنے کرتا ہے تو اسے غیرت آجاتی ہے اور وہ اسے سخت ناپسند کرتا ہے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ میں نے ایک چور سے پوچھا۔ تمہیں چوری کرنا برا نہیں معلوم ہوتا۔ وہ کہنے لگا۔ برا کیونکر معلوم ہو۔ ہم محنت و مشقت سے کماتے ہیں۔ اور بڑی بڑی تکلیفیں اٹھاتے ہیں۔ یونہی تھوڑا ہی کہیں سے اٹھا لاتے ہیں۔ فرماتے تھے یہ سن کر میں نے اس سے کچھ اور باتیں شروع کر دیں۔ اور تھوڑی دیر کے بعد پوچھا۔ تم مال آپس میں کس طرح تقسیم کیا کرتے ہو۔ اس نے کہا ایک سنار ساتھ شامل ہوتا ہے۔ اسے سب زیورات دے دیتے ہیں۔ وہ گلا کر سونا بنا دیتا ہے یا چاندی جیسا زیور ہو۔ پھر مقرر شدہ حصوں کے مطابق ہم تقسیم کر لیتے ہیں۔ میں نے کہا اگر وہ اس میں سے کچھ رکھ لے تو پھر ۔ وہ کہنے لگا اگر وہ ایسا کرے تو ہم اس بد معاش چور کا سر نہ اڑا دیں وہ اس کے باپ کا مال ہے کہ اس میں سے رکھ لے۔ اس مثال سے معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح انسان اپنے اعمال کو اور نظر سے دیکھتا ہے۔ اور دوسرے کے اعمال کو اور نظر سے۔ پس گناہ کی تعریف اپنے نفس کو مد نظر رکھ کر نہیں کرنی چاہئے۔ بلکہ دوسروں کے اعمال کو مد نظر رکھ کر کرنی چاہئے اس صورت میں انسان چھوٹی چھوٹی خطاؤں کو بھی محسوس کریگا۔ پھر اس جرم کی تعریف خود نہیں کرنی چاہئے۔ بلکہ دوسرے کو دیکھ کر تعریف سمجھنی چاہئے۔ دوسرے کو کرتے دیکھ کر تعریف کو اپنے نفس پر چسپاں کریگا تو معلوم ہو گا کہ بہت سی باتیں وہ خود خوشی سے کر لیتا تھا۔ لیکن دوسروں کی دفعہ ان کو گناہ کبیرہ خیال کرتا تھا۔ یہ گناہ کی تعریف معلوم کرنے کا ایک سل اور اعلیٰ گر ہے جس کے استعمال سے بہت کم غلطی کا احتمال باقی رہ جاتا ہے۔