انوارالعلوم (جلد 4) — Page iv
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ پیش لفظ خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے انوار العلوم" کی جوئے نور رواں دواں ہے اس سے قبل اس کی تین جلدیں شائع ہو چکی ہیں۔چوتھی جلد جو اگست 1917ء سے دسمبر 1919ء تک کی سترہ کتب پر مشتمل ہے احباب جماعت کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے۔الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِكَ حضرت فضل عمر سید نا المصلح الموعود ہمیشہ بنی جماعت کی علمی ترقی اور روحانی بہتری کے لئے کوشاں رہے۔اس مجموعہ میں بھی حضور نے جماعت کے اخلاق و روحانیت کی حفاظت اور جماعت کے قیام کے حقیقی مقصد دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کی غرض سے نہایت اہم اور بیش قیمت نصائح اور راہنما اصول بیان فرمائے ہیں۔حضور جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔"آپ کی ہر حرکت اور فعل ، ہر قدم نمونہ ہونا چاہئے آپ کی ذمہ داریاں بڑی ہیں آپ کوشش کریں کہ آپ میں کبھی لڑائی جھگڑا نہ ہو۔تمام قسم کے عیوب۔۔۔۔۔اور لغو و بیہودہ باتوں سے بچو اور آپس میں تمہارے تعلقات اخوت و محبت کے اعلیٰ مقام پر ہوں"۔اسی طرح آپ نے فرمایا۔ہماری جماعت کے لوگوں کے لئے سب سے پہلے یہ بات نہایت ضروری ہے کہ وہ اپنے خیالات اور ارادوں کی اصلاح کریں۔بہت لوگ اس کی پروا نہیں کرتے حالا نکہ سب سے ضروری یہی بات ہے کہ انسان کو اپنے قلب پر قبضہ حاصل ہو اور جس کو دل پر قبضہ اور اختیار حاصل ہو گیا اسے سب کچھ حاصل ہو گیا"۔ان تربیتی امور کے ساتھ ساتھ علم و معرفت کے خزائن اور بنیادی اہمیت کے دینی امور مفضل ، مدلل اور دلچسپ پیرایہ میں بیان ہوئے ہیں۔اسلامی تاریخ کے ابتدائی دور کے متعلق بعض ایسی غلط فہمیاں عام طور پر پائی جاتی ہیں کہ ان کی وجہ سے صحابہ کرام " پر بہت سے اعتراضات وارد ہوتے ہیں۔بلکہ اسلام کی حقیقت و