انوارالعلوم (جلد 4) — Page 371
انوار العلوم جلد ٣١ عرفان الهی اس نے اس سے دریافت کیا کہ میرے باغ سے انگور کیوں لئے جاتے ہو۔اس نے کہا پہلے میری بات سن لو پھر جو چاہے کرنا۔مالک باغ نے کہا بیان کرو۔اس نے کہا مجھے ایک بگولا نے اٹھا کر باغ میں لا ڈالا۔اتفاقاً جہاں میں آکر گرا وہاں انگوروں کے درخت تھے۔ایسے وقت میں آپ جانتے ہیں کہ انسان اپنی جان بچانے کی کوشش کرتا ہے۔میں نے جو ادھر ادھر ہاتھ مارنے شروع کئے۔تو بیلوں پر سے انگور گر گر کر ایک ٹوکرے میں جو وہیں پڑا تھا جمع ہونے لگے۔اب بتاؤ اس میں میرا کیا قصور ہے۔باغ کے مالک نے کہا یہ تو جو کچھ ہوا ٹھیک ہوا۔مگر یہ تو بتلاؤ کہ ٹو کر ا تمہارے سر پر رکھ کر تمہیں یہ کس نے کہا کہ اپنے گھر کی طرف لے جاؤ وہ کہنے لگا یہی میں بھی سوچنا آ رہا تھا کہ یہ مجھے کس نے کہا تھا۔بعینہ اسی طرح اس شخص کا حال ہوتا ہے جو برے خیال کو اپنے دل میں جگہ دیتا اور قائم کرتا ہے۔کیونکہ گو وہ برے خیال کے دل میں لانے میں مجرم نہیں مگر اس کے قائم رکھنے کا مجرم ہے۔بیشک اس سے یہ دریافت نہیں کیا جاوے گا کہ برا خیال اس کے دل میں کیوں آیا مگر یہ اس سے ضرور دریافت کیا جاویگا کہ اس برے خیال کو اس نے دل میں قائم کیوں کیا اور اس کو سزا دی جائیگی۔اس وجہ سے نہیں کہ وہ اس خیال کو دل میں کیوں لایا بلکہ اس وجہ سے کہ اس نے اسے دل میں رکھا کیوں۔اور یہ انسان کے اپنے اختیار کی بات ہے۔اس کے اختیار سے باہر نہیں کہ وہ برے خیالات کو دل سے نکال دے۔غرض تزکیہ نفس کے لئے پہلی بات یہ ضروری ہے کہ انسان تزکیہ نفس کا پہلا طریق برے اور ناپاک خیالات کو دل سے دور کرتا رہے۔دوسرا طریق قرآن کریم میں حصول تزکیہ کا بلکہ ہر ایک کام میں کامیاب دوسرا طریق ہونے کا یہ بتایا گیا ہے کہ وَلَيْسَ الْبِرُّ بِأَنْ تَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ ظُهُورِ مَا وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقَى وَآتُوا الْبُيُوتَ مِنْ اَبْوَابِهَا وَاتَّقُوا اللهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (البقرة : 190) یعنی نیکی یہ نہیں کہ تم مشقت اٹھاؤ اور کود کود کر گھروں میں آؤ۔بلکہ نیکی تقوی سے حاصل ہوتی ہے۔پس جن کاموں کے کرنے کے جو طریق بتائے گئے ہیں ان کو اختیار کرد اور تقویٰ اللہ کرو تا کامیاب ہو۔اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ کامیابی کے لئے ان صحیح ذرائع کا استعمال کرنا نہایت ضروری ہے جو اس غرض کے لئے اللہ تعالٰی نے مقرر کئے ہیں۔اور چونکہ عرفان الہی کے حصول کا صحیح ذریعہ تزکیہ نفس ہے اور تزکیہ نفس اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک پہلے بدیوں سے اجتناب اور پھر نیکیوں کو اختیار نہ کیا جاوے۔اس لئے ضروری ہے