انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 361 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 361

عرفان الهی والعلوم جلدم کوشش کرے کہ میں کامیاب ہو جاؤں تو ضرور وہ سارا دن اور ساری رات لگا رہے تو بھی کامیاب نہیں ہو سکے گا۔کیونکہ اس طرح بعض امور جن کی طرف توجہ کرنا ضروری ہو گا اس کی طرف توجہ نہیں کرے گا۔اور جن سے بچنا ضروری ہو گا ان سے بچ نہیں سکے گا۔ایسی صورت میں کامل بننے کی کوشش کرنا غلطی نہیں تو اور کیا ہے۔جب تک سارے پہلو مڈ نظر نہ ہوں اس وقت تک کامیابی نہیں ہو سکتی۔پس اگر کوئی شخص بعض بدیوں سے غافل ہو گا تو وہ کامیاب نہیں ہو گا۔اس لئے سب سے پہلے ضروری امر یہ ہے کہ انسان بدیوں کبھی واقف ہو۔دوسری وجه ارتکاب گناہ کی یہ ہوتی ہے کہ انسان کو گناہوں کا تو علم ہوتا ہے مگر وقت پر اسے ایسا جوش آجاتا ہے کہ اسے کچھ یاد نہیں رہتا۔اور وہ برائی کا مرتکب ہو جاتا ہے مثلاً ایک شخص جانتا ہے کہ جھوٹ نہیں بولنا چاہئے لیکن وقت پر بول دیتا ہے اور بعد میں پھر اس پر پچھتاتا بھی ہے۔اسی طرح ایک شخص سمجھتا ہے کہ گالیاں دینا برا ہے مگر دے دیتا ہے اور بعد میں اپنی اس حرکت پر روتا ہے۔تو پہلی روک تو یہ تھی کہ بدیاں معلوم ہی نہ تھیں اور دوسری روک یہ ہے کہ بدیوں کا علم تو ہوتا ہے لیکن وقت پر ایسا جوش آتا ہے کہ انسان ایک لمحہ کے لئے اپنا سب علم بھول جاتا ہے اور ارتکاب کرنے کے بعد کفِ افسوس ملتا ہے۔ان کے علاوہ ایک تیسری صورت ارتکاب گناہ کی یہ ہے کہ بعض اوقات انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ فلاں حرکت بدی ہے۔اور اس کا ارتکاب کرتے وقت اسے یاد بھی ہوتا ہے کہ یہ بدی ہے مگر پھر بھی کر بیٹھتا ہے۔مثلاً ایک شخص کو علم ہوتا ہے کہ جھوٹ بولنا برائی ہے اور جب بولنے لگتا ہے اس وقت بھی جانتا ہے کہ اگر میں نے بولا تو خدا ناراض ہو گا مگر پھر بھی بول لیتا ہے۔اسی طرح غیبت کے متعلق سمجھتا ہے کہ برائی ہے اور جانتا ہے کہ خدا کو نا پسند ہو گی۔لیکن پھر بھی وقت پر رک نہیں سکتا اور اسے نفس برائی کے ارتکاب پر مجبور کر دیتا ہے غرض یہ تین روکیں بدیوں سے بچنے میں انسان کو پیش آتی ہیں اور ان تینوں روکوں کا دور کرنا اس کے لئے از بس ضروری ہے تاکہ وہ دوسرے قدم اٹھا سکے جن کے ذریعہ سے عرفانِ الہی کا میسر آنا اس کے لئے ممکن ہو سکتا ہے۔میں تفصیلاً ان روکوں کے دور کرنے کا علاج بیان کرنے سے پہلے اصولی طور پر ایک علاج بیان کرتا ہوں اور یہ پہلی قسم کے لوگوں کو چھوڑ کر جنہیں علم ہی نہیں ہو تا کہ فلاں بدی ہے