انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 360 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 360

انوار العلوم جلد ۴ عرفان الهی کوشش ہی نہیں کرتے وہ تو ایسے ہوتے ہیں جنہیں خدا کی صفات کا علم ہی نہیں ہوتا ان کے لئے ضروری ہے کہ ان کو خدا کا علم دیا جائے۔مگر چونکہ اس وقت ہمارے مضمون کے مخاطب وہی لوگ ہیں جو خدا کو مانتے ہیں اسلام کے پیرو ہیں اور چاہتے ہیں کہ خدا کا قرب اور معرفت حاصل ہو۔اس لئے سردست ہم انہیں کے معاملہ پر غور کریں گے اور دیکھیں گے کہ ان کے رستہ میں کیا رد کیں ہیں اور وہ کس طرح دور ہو سکتی ہیں۔جیسا کہ میں بتا چکا ہوں۔عرفان الہی کے حصول کا واحد صفات الہیہ پیدا کرنے کا طریق ذریعہ اخلاق الہیہ اپنے اندر پیدا کرنا ہے۔اور صفات الیہ اس وقت تک انسان کے اندر پیدا نہیں ہو سکتیں جب تک پہلے انسان کا قلب بدیوں سے صاف نہ ہو۔پس سب سے اول روک عرفان الہی کے حاصل ہونے میں ارتکاب گناہ ہے۔اور ارتکاب گناہ تین طرح ہوتا ہے۔اول اس طرح کہ ارتکاب گناہ کی تین قسمیں بعض لوگوں کو بعض بدیاں معلوم ہی نہیں ہوتیں۔اور لاعلمی سے وہ انکے مرتکب ہو جاتے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ موٹی موٹی اور معروف بدیاں تو ہر ایک کو معلوم ہوتی ہیں۔اور ہر ایک جانتا ہے کہ چوری ڈاکہ زنا جھوٹ وغیرہ برائیاں ہیں اور ان سے بچنا چاہئے لیکن جس طرح کوئی مکان اس وقت تک محفوظ نہیں ہو سکتا جب تک ہر پہلو سے مکمل نہ ہو۔اگر کوئی چاروں دیواریں بنا دے اور اوپر چھت نہ ڈالے تو مکان بارش اور دھوپ سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔بلکہ محفوظ اور مکمل ہونے کے لئے ضروری ہے کہ چھت بھی ہو۔روشندان اور کھڑکیاں وغیرہ بھی ہوں۔اسی طرح کوئی انسان پورے طور پر پاک نفس نہیں ہو سکتا جب تک بدیوں کے تمام پہلوؤں پر اس کی نظر نہ ہو۔اور بدیوں میں سے بعض ایسی پوشیدہ ہوتی ہیں کہ ان کا علم ایک دقیق اور باریک مطالعہ کے سوا اور محنت شاقہ کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ہر ایک کام کے لئے ایک تو وہ امور ہوتے ہیں جن سے اس کی حفاظت ہوتی ہیں اور دوسرے وہ جن سے اسکی زینت مد نظر ہوتی ہے۔اگر زینت والے امور رہی جائیں تو کوئی زیادہ حرج نہیں ہو تا لیکن اگر حفاظت والے رہ جائیں تو وہ چیز نامکمل سمجھی جاتی ہے۔مثلاً اگر کوئی مکان بنائے۔اور اس کے دروازے و روشندان کھڑکیاں وغیرہ نہ لگائے تو مکمل نہیں ہو گا۔لیکن اگر فرش نہ کرے پلستر نہ کرائے تو زینت نہیں ہو گی۔حفاظت میں نقص نہیں واقع ہو گا۔پس ایک ایسا شخص جس کو بعض بدیاں معلوم ہی نہ ہوں اس بات کی رہ