انوارالعلوم (جلد 4) — Page 357
لوم جلد ۴ ۳۵۷ عرفان الی صفات کا لفظ زبان پر آتے ہی ایک دوست کی خواب یاد آگئی۔اس نے بتایا تھا کہ میں نے دیکھا ہے کہ آپ سالانہ جلسہ میں اسماء الہی پر تقریر کر رہے ہیں۔اس لئے اسماء الہی پر تقریر کریں۔جس وقت یہ خواب بتلائی گئی اس وقت جلسہ کے لئے اور مضمون مقرر ہو چکا تھا۔مگر اب صفات کا لفظ زبان پر آتے ہی ان کی خواب یاد آگئی۔تو خدا تعالیٰ کی صفات اپنے اندر پیدا کرنا معرفت الہی حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے۔کیونکہ جب تک انسان ایک قسم کا رب نہ ہو ایک قسم کا رحمن نہ ہو ایک قسم کا رحیم نہ ہو مهمین نہ ہو ، ستار نہ ہو ، غفار نہ ہو اس وقت تک اللہ تعالیٰ کا مظہر انسان نہیں ہو سکتا۔اور جتنا جتنا صفات الہیہ کا پر تو اس پر پڑتا جائیگا اسی قدر وہ صفات الہیہ کا مشاہدہ کرتا جائیگا۔لیکن کامل انسان وہی ہو گا اور وہی عارف ہو گا جو اللہ تعالیٰ کی ان تمام صفات کو جو بندہ کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں اپنے اندر پیدا کرے۔اس کے بعد خدا کا ملنا اس کے لئے آسان ہو جائیگا کیونکہ اس میں اور خدا میں ایک تعلق پیدا ہو جائیگا۔اب سوال ہوتا ہے کہ صفات الہی اپنے اندر کیونکر پیدا کی جائیں۔کسی نے کہا ہے درد سر کے واسطے صندل کو کہتے ہیں مفید اس کا گھنا اور لگانا درد سر یہ بھی تو ہے تو کہا جا سکتا ہے کہ یہ نکتہ تو معلوم ہو ینے اندر صفات الہی کے پیدا کرنے کا طریق گیا کہ عرفانِ الہی حاصل کرنے کے لئے خدا کی صفات حاصل کر لینی چاہیں۔لیکن یہ بھی تو معلوم ہونا چاہئے کہ خدا کی صفات حاصل کس طرح ہو سکتی ہیں۔بہت لوگ ہوتے ہیں جو کوشش کرتے ہیں کہ کسی پر رحم کریں سختی نہ کریں۔لیکن ان کے دل کی سختی انہیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔اسی طرح کئی لوگوں کی خواہش ہوتی ہے کہ دوسروں کے عیب پر پردہ ڈالیں مگر وقت پر بات منہ سے نکل ہی جاتی ہے۔اسی طرح کئی لوگوں کی خواہش ہوتی ہے کہ معاف کرنے کی صفت پیدا کریں مگر نہیں پیدا کر سکتے۔تو جب باوجود کوشش اور سعی کے لوگ یہ صفات نہیں حاصل کر سکتے تو پھر سوال ہوتا ہے کہ کیونکر انسان کے اعمال ایسے ہو جائیں کہ خدا کی صفات اس سے ظاہر ہونے لگیں۔اس کے لئے سب سے پہلی ضروری بات یہ ہے کہ انسان کو پہلا طریقہ صفاتِ الہی کا علم خدا تعالیٰ کی صفات کا علم ہو۔یہ نہ سمجھو کہ یہ معمولی بات ہے اس کا کسی کو علم نہیں کیونکہ بہت لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے ذہن میں خدا تعالیٰ کی