انوارالعلوم (جلد 4) — Page 354
انوار العلوم جلد ۴ ۳۵۴ عرفان التي جب تک کہ ان شرائط کی پابندی نہ کی جائے جو اس کے لئے مقرر ہوں۔کامیابی کے دو اصول کسی کام میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے دو طریق ہوتے ہیں۔اول یہ کہ کچھ عام اصول ہوتے ہیں ان کے ماتحت کچھ لوگ کام سیکھتے ہیں۔مثلاً علم حاصل کرنے کے لئے طالبعلم مدرسہ میں جاتے اور پڑھائی کا جو کورس مقرر ہوتا ہے وہ پڑھتے ہیں اور کامیاب ہوتے ہیں۔دوسرے بعض خاص گر ہوتے ہیں ان کو یاد کر لیا جائے تو وہ کام آجاتا ہے جس کے لئے وہ گر مقرر ہوتے ہیں۔مثلاً "الجبرا کے فارمولے ہوتے ہیں۔ان کے یاد کر لینے سے "الجبر" کا علم آجاتا ہے۔یا بنیوں نے حساب کرنے کے خاص گر بنائے ہوتے ہیں ان سے جھٹ نیٹ حساب کر لیتے ہیں۔تو ہر ایک کام کے لئے ایک عام طریق ہوتا ہے اس پر عمل کرنے سے کامیابی ہو سکتی ہے۔اور کچھ خاص گر ہوتے ہیں ان کے ذریعہ انسان نسبتاً آسانی کے ساتھ صحیح نتیجہ پر پہنچ جاتا ہے۔ہر ایک امر کے متعلق یہ دونوں باتیں ہوتی ہیں خواہ وہ امر روحانی ہو یا جسمانی۔لیکن یاد رکھنا چاہئے کہ گر اسی وقت مفید اور نتیجہ خیز ہوتے ہیں جب کہ پہلے عام قواعد معلوم ہوں۔یہ نہیں کہ کوئی صرف گر سیکھ لے کہ انگریزی اس طرح پڑھی جاتی ہے تو اسے انگریزی آجائے کیونکہ گر دراصل کام کو چھوٹا اور جلدی کرنے کے لئے ہوتے ہیں نہ کہ اس میں کامیاب ہونے کے لئے۔اس وقت میں جو مضمون بیان کرنے لگا ہوں اس کے میں عام قاعدے بیان کروں گا۔گر نہ بیان کرونگا کیونکہ وہ مستقل مضمون ہے۔اور گر نہ بیان کرنے سے کوئی حرج بھی نہیں ہے کیونکہ یہ ٹھیک ہے کہ گروں کے ذریعہ گھنٹوں کا کام منٹوں میں اور سالوں کا کام مہینوں میں ہو سکتا ہے۔مگر ان سے اسی وقت فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے جبکہ اصل قواعد آتے ہوں۔اس لئے ضروری ہے کہ پہلے عام قاعدے سیکھے جائیں اور جب ان پر عمل شروع ہو جائے تو پھر کام کو مختصر کرنے اور نتیجہ تک جلدی پہنچنے کے لئے گھروں کو سیکھا جائے۔پس چونکہ وہ ایک الگ اور مستقل مضمون ہے اس لئے آج میں اسے نہیں چھیڑونگا۔اگر اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو پھر کبھی بیان کروں گا اور آج عام قاعدے بیان کرونگا۔یہاں یہ بیان کر دینا بھی ضروری عرفان الہی کا تعلق قلب سے ہے زبان سے نہیں ہے کہ معرفت الہی کوئی ایسی چیز نہیں ہے کہ جس کی اصل حقیقت کو لفظوں میں بیان کیا جا سکے۔اگر ایسا ہو سکتا تو ہر ایک شخص