انوارالعلوم (جلد 4) — Page 352
انوار العلوم جلد ۴ ۳۵۲ عرفان الهی دوسری صورت یہ ہوتی ہے کہ ایسا موقع ہو کہ انسان عمل کر ہی نہ سکے ۔ مثلاً ایک ایسا شخص ہو جسے جنگل میں قید کر دیا گیا ہو اور اس کے ہاتھ پاؤں باندھ دیئے گئے ہوں۔ اب چونکہ یہ شخص عمل کر ہی نہیں سکتا اس کے لئے محض دعا کرنا ہی کافی ہے۔ لیکن جب اس قسم کی روکیں نہ ہوں اس وقت دعا کے ساتھ عمل کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔ تو صرف یہ دو موقعے ایسے ہوتے ہیں جب کہ دعا بغیر عمل کے منظور ہو سکتی ہے ورنہ نہیں۔ پھر صرف دعا اور کوشش کرنے سے بھی خدا نہیں مل سکتا۔ میں نے خود دیکھا ہے بعض لوگ بڑی کوشش کرتے ہیں لیکن ان کو خدا نہیں مل سکتا۔ جس سے معلوم ہوا کہ یہ بھی کافی نہیں اب سوال ہوتا ہے کہ جب کوئی ان دونوں باتوں سے کام لیتا ہے۔ یعنی دعا بھی کرتا ہے اور کوشش بھی تو پھر کیوں خدا نہیں حاصل ہوتا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس کی کوشش صحیح کوشش نہیں ہوتی وہ کوشش کرتا ہے لیکن صحیح کوشش نہیں کرتا۔ اور کامیابی کیلئے شرط یہ ہے کہ کوشش کی جائے کامیابی کیلئے صحیح کوشش شرط ہے اور صحیح طریق سے کی جائے ۔ مثلاً ایک طالب علم جو مدرسہ میں پڑھنے میں پڑھنے کیلئے جاتا ہے اس کے ہے اس کیلئے ضروری ہے کتابیں خریدے اور ا انہیں پڑھے ۔ لیکن اگر وہ کتابیں تو نہ پڑھے اور سارا دن دعائیں کرتا رہے کہ مجھے علم حاصل ہو جائے تو کیا اسے حاصل ہو جائیگا ؟ ہرگز نہیں۔ یا کیا اگر وہ سارا دن الٹا لٹکا رہے یا اپنے جسم کو سوئیاں مارتا رہے اور سمجھے کہ میں بڑی مشقت کر رہا ہوں اسلئے پاس ہو جاؤ نگا تو وہ پاس ہو جائیگا ؟ ہرگز نہیں۔ یا ایک شخص جو لوہاری کا کام سیکھنا چاہے وہ سارا دن نماز پڑھتا رہے اور ساری رات سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِيمِ پڑھتا رہے۔ جسکی نسبت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ كَلِمَتَانِ حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ خَفِيفَتَانِ عَلَى النِّسَانِ، ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ : سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ بخاری کتاب التوحيد باب قول الله تعالى " ونضع الموازين القسط ليوم القيمة ، يعنى دو کلے ایسے ہیں کہ خدا تعالیٰ کو پیارے ہیں۔ زبان پر ہلکے معلوم ہوتے ہیں لیکن میزان میں بو جھل ہیں۔ یا سارا دن کنواں کھودتا رہے۔ یا کڑاکے کی دھوپ میں نگا ہو کر کوٹتا رہے تو لوہاری کا کام آجائیگا؟ ہرگز نہیں۔ اسلئے ہر ایک کام میں کامیابی حاصل کرنے کیلئے دعا اور صحیح کوشش کی ضرورت ہے۔ اور جو ایسا نہیں کرتا وہ خواہ کتنی ہی دعا کرے اور کتنی ہی محنت و مشقت برداشت کرے کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ پس