انوارالعلوم (جلد 4) — Page 346
م ۳ عرفان الهی پتہ ہے کہ اس کا حلیہ کیا تھا۔دوست نے کہا جب آپ اس کی شکل تک کے واقف نہیں ہیں تو پھر اس پر عاشق کیونکر ہو گئے۔اس نے کہا اصل بات یہ ہے کہ میں ایک دن مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ کوئی شخص یہ شعر پڑھتا جا رہا تھا کہ فلاں عورت پر ساری دنیا عاشق ہو گئی ہے۔یہ سن کر میں بھی اس پر عاشق ہو گیا۔اس کے بعد ایک دن میں نے کسی کو یہ شعر پڑھتے ہوئے سنا کہ اتم عمر گدھے پر سوار ہو کر کسی جگہ گئی تھی مگر نہ وہ کوئی اور نہ اس کا گدھا لوٹا۔اس پر میں نے خیال کیا کہ ہو نہ ہو یہ میری معشوقہ ہے اور وہ کوئی جو نہیں تو ضرور مر ہی گئی ہو گی۔ورنہ اس قدر دیر تک وہاں ٹھہرنے کی کیا وجہ تھی۔اب تم خود ہی سمجھ سکتے ہو کہ اس صدمہ جانکاہ کے بعد میں جس قدر رنج و غم کا اظہار کروں تھوڑا ہے۔اس پر وہ دوست ظاہر میں اس کے صدمہ پر اور دل میں اس کی عقل پر اظہار افسوس کرتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔تو ایسے لوگ بھی دنیا میں ہوتے ہیں جو کہتے ہیں ہائے ہمیں خدا نہیں ملتا۔مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ خدا ہے کیا۔عرفان الہی کے معنے ہیں۔"خدا کی پہچان" لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ خدا کی صفات کا علم ہو جائے۔کیونکہ یہ تو قرآن اور حدیث میں بیان ہو چکی ہیں۔اگر عرفان الہی کے معنی خدا کی صفات کا پتہ لگانا ہو تو یہ تو پہلے سے ہی معلوم ہوتی ہیں۔باقی رہی خدا تعالی کی ذات۔اس کی گنہ نہ آج تک ی کوئی پاسکا ہے اور نہ پا سکتا ہے۔اس لئے معلوم ہوا کہ عرفان کے کچھ اور معنی ہیں۔اور وہ یہی کہ انسان نے خدا کی جو صفات سنی اور معلوم کی ہوں وہ جس ہستی میں پائی جاتی ہیں وہ اسے معلوم ہو جائے۔یہ ہے عرفان الہی کے حصول کا طریق اور اسی کے آگے مختلف نام ہیں۔اب اس عرفان کے لئے دیکھنا چاہئے کہ یہ کس طرح عرفانِ الہی کے حصول کا طریق حاصل ہو سکتا ہے اور اس کے حصول کے کیا ذرائع ہیں۔اس کے لئے سب سے پہلی بات جو میں بیان کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ کچھ وہ لوگ ہیں جو کوشش کرتے ہیں مگر انہیں عرفان حاصل نہیں ہوتا۔ان کا ذکر چھوڑ کر ان کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں جو کوشش تو کچھ نہیں کرتے مگر کہتے ہیں کہ ہمیں خدا مل جائے۔ایسے لوگوں کے اعمال کو اگر دیکھا جائے تو صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ خدا کو پانے کے لئے کچھ بھی کوشش نہیں کرتے اور ان کا حال ایسا ہی ہوتا ہے جیسا کہ مجلس میں اگر کسی کا ذکر آجائے تو اس کا خیال آجاتا ہے۔وہ جب کبھی خدا کے حاصل کرنے اور اس کے پانے کا ذکر سنتے ہیں تو وہ بھی خواہش کرتے ہیں کہ ہمیں خدا مل جائے۔لیکن ایسے لوگوں کو کسی صورت میں بھی خدا نہیں مل سکتا۔