انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 316 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 316

را العلوم جلدم ۳۱۶ اسلام میں اختلافات کا آغاز لوٹنے پر حضرت عثمان نے بصرہ میں نظر بند کر دینے کا حکم دیا تھا) دونوں غافقی کے ماتحت کام کرتے تھے۔اور اس سے ایک دفعہ پھر یہ بات ثابت ہو گئی کہ اس فتنہ کی اصل جڑ مصری تھے۔جہاں عبد اللہ بن سبا کام کر رہا تھا۔مسجد نبوی میں غافقی نماز پڑھاتا تھا اور رسول کریم کے صحابہ اپنے گھروں میں مقید رہتے یا اس کے پیچھے نماز ادا کرنے پر مجبور تھے۔جب تک ان لوگوں نے حضرت عثمان کے گھر کا محاصرہ کرنے کا فیصلہ نہیں کیا تھا تب تک تو لوگوں سے زیادہ تعریض نہیں کرتے تھے مگر محاصرہ کرنے کے ساتھ ہی دوسرے لوگوں پر بھی سختیاں شروع کر دیں۔اب مدینہ دار الامن کی بجائے دارالحرب ہو گیا۔اہل مدینہ کی عزت اور ننگ و ناموس خطرہ میں تھی اور کوئی شخص اسلحہ کے بغیر گھر سے نہیں نکلتا تھا اور جو شخص ان کا ی مقابلہ کرتا اسے قتل کر دیتے تھے۔حضرت علی " کا محاصرہ کرنے والوں کو نصیحت کرنا جب ان لوگوں نے حضرت عثمان" کا محاصرہ کر لیا اور پانی تک اندر جانے سے روک دیا تو حضرت عثمان نے اپنے ایک ہمسایہ کے لڑکے کو حضرت علی اور حضرت طلحہ اور حضرت زبیر اور امہات المؤمنین کی طرف بھیجا کہ ان لوگوں نے ہمارا پانی بھی بند کر دیا ہے۔آپ لوگوں سے اگر کچھ ہو سکے تو کوشش کریں اور ہمیں پانی پہنچا ئیں۔مردوں میں سب سے پہلے حضرت علی" آئے اور آپ نے ان لوگوں کو سمجھایا کہ تم لوگوں نے کیا رویہ اختیار کیا ہے۔تمہارا عمل تو نہ مؤمنوں سے ملتا ہے نہ کافروں سے۔حضرت عثمان کے گھر میں کھانے پینے کی چیزیں مت روکو۔روم اور فارس کے لوگ بھی قید کرتے ہیں تو کھانا کھلاتے ہیں اور پانی پلاتے ہیں۔اور اسلامی طریق کے موافق تو تمہارا یہ فعل کسی طرح جائز نہیں۔کیونکہ حضرت عثمان نے تمہارا کیا بگاڑا ہے کہ تم ان کو قید کر دینے اور قتل کر دینے کو جائز سمجھنے لگے ہو۔حضرت علی کی اس نصیحت کا ان پر کوئی اثر نہ ہوا۔اور انہوں نے صاف کہہ دیا کہ خواہ کچھ ہو جائے ہم اس شخص تک دانہ پانی نہ پہنچنے دیں گے۔یہ وہ جواب تھا جو انہوں نے اس شخص کو دیا جسے وہ رسول کریم ا ا ل ہا کا وصی اور آپ کا حقیقی جانشین قرار دیتے تھے۔اور کیا اس جواب کے بعد کسی اور شہادت کی بھی اس امر کے ثابت کرنے کے لئے ضرورت باقی رہ جاتی ہے کہ یہ علی گروہ کی حضرت علی کا وصی قرار دینے والا گر وہ حق کی حمایت اور اہل بیت کی محبت کی خاطر اپنے گھروں سے نہیں نکلا تھا بلکہ اپنی نفسانی اغراض کو پورا کرنے کے لئے۔