انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 311 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 311

انوار العلوم جلد ۴ اسلام میں اختلافات کا آغاز یوں بھی آسان نہ تھا مگر اس صورت میں کہ وہ چند آدمیوں کو بھی اکٹھا ہونے نہ دیتے تھے اور دو دو چار چار آدمیوں سے زیادہ آدمیوں کا ایک جگہ جمع ہونا نا ممکن تھا۔ باغی فوج کے مقابلہ کا خیال بھی دل میں لانا محال تھا۔ اور اگر بعض من چلے جنگ پر آمادہ بھی ہوتے تو سوائے ہلاکت کے اس کا کوئی نتیجہ نہ نکلتا۔ مسجد ایک ایسی جگہ تھی جہاں لوگ جمع ہو سکتے تھے۔ مگر ان لوگوں نے نہایت ہوشیاری سے اس کا بھی انتظام کر لیا تھا اور وہ یہ کہ نماز سے پہلے تمام مسجد میں پھیل جاتے اور اہل مدینہ کو اس طرح ایک دوسرے سے جدا جدا رکھتے کہ وہ کچھ نہ کر سکتے۔ کو نصیحت کرنا باوجود اس شور و فساد کے حضرت عثمان " نماز ھانے کے لئے باقاعدہ مسجد میں تشریف حضرت عثمان " کا مفسدوں کو نصیحت کرنا پڑھانے اتے اور یہ لوگ بھی آپ سے اس معاملہ میں تعریض نہ کرتے اور امامت نماز سے نہ رو روکتے حتی کہ ان لوگوں کے مدینہ پر قبضہ کر لینے کے بعد سب سے پہلا جمعہ آیا ۔ حضرت عثمان نے جمعہ کی نماز سے فارغ ہو کر ان لوگوں کو نصیحت فرمائی۔ اور فرمایا کہ اے دشمنان اسلام ! خدا تعالیٰ کا خوف کرو۔ تمام اہل مدینہ اس بات کو جانتے ہیں کہ تم لوگوں پر رسول کریم ﷺ نے لعنت فرمائی ہے۔ پس تو بہ کرو اور اپنے گناہوں کو نیکیوں کے ذریعے سے مٹاؤ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ گناہوں کو نیکیوں کے سوا کسی اور چیز سے نہیں مٹاتا۔ اس پر محمد بن مسلمہ انصاری کھڑے ہوئے اور کہا کہ میں اس امر کی تصدیق کرتا ہوں۔ ان لوگوں نے سمجھا کہ حضرت عثمان پر تو ہمارے ساتھی بدظن ہیں لیکن صحابہ نے اگر آپ کی تصدیق کرنی شروع کی اور ہماری جماعت کو معلوم ہوا کہ رسول کریم ﷺ نے ہماری نسبت خاص طور پر پیشگوئی فرمائی تھی تو عوام شاید ہمارا ساتھ چھوڑ دیں۔ اس لئے انہوں نے اس سلسلہ کو روکنا شروع کیا۔ اور محمد بن مسلمہ رسول کریم کے مقرب صحابی کو جو تائید خلافت کے لئے نہ کسی فتنہ کے برپا کرنے کے لئے کھڑے ہوئے تھے۔ حکیم بن جبلہ ڈاکو نے جس کا ذکر میں شروع میں کر چکا ہوں جبرا پکڑ کر بٹھا دیا۔ اس پر زید بن ثابت جن کو قرآن کریم کے جمع کرنے کی عظیم الشان خدمت سپرد ہوئی تھی تصدیق کے لئے کھڑے ہوئے مگر ان کو بھی ایک اور شخص نے بٹھا دیا۔ اس کے بعد اس محبت اسلام کا دعوی کرنے والی مفسدوں کا عصائے نبوی کو توڑنا جماعت کے ایک فرد نے حضرت عثمان کے ہاتھ آپ کے بعد حضرت ابو ت ابو بکر عصا جس پر رسول کریم ال ٹیک لگا کر خطبہ دیا کرتے تھے اور آ۔ وہ سے