انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 257 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 257

وم جلد ۴ ۲۵۷ اسلام میں اختلافات کا آغاز ان کو غاصب کی حیثیت میں دیکھنے لگا تھا اور اس بات کا منتظر تھا کہ کب کوئی موقع ملے اور ان لوگوں کو ایک طرف کر کے ہم حکومت و اموال حکومت پر تصرف کریں۔دوسری وجہ اس فساد کی یہ تھی کہ اسلام نے حریت فکر اور آزادی عمل اور مساوات افراد کے ایسے سامان پیدا کر دیئے تھے جو اس سے پہلے بڑے سے بڑے فلسفیانہ خیالات کے لوگوں کو بھی میسر نہ تھے۔اور جیسا کہ قاعدہ ہے کہ کچھ لوگ جو اپنے اندر مخفی طور پر بیماریوں کا مادہ رکھتے ہیں وہ اعلیٰ سے اعلیٰ غذا سے بھی بجائے فائدہ کے نقصان اٹھاتے ہیں۔اس حریت فکر اور آزادی عمل کے اصول سے کچھ لوگوں نے بجائے فائدہ کے نقصان اٹھایا اور اس کی حدود کو قائم نہ رکھ سکے۔اس مرض کی ابتداء تو رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں ہی ہوئی جب کہ ایک ناپاک روح نام کے مسلم نے رسول کریم ﷺ کے منہ پر آپ کی نسبت یہ الفاظ کے کہ یا رسول اللہ تقویٰ اللہ کام لیں کیونکہ آپ نے تقسیم مال میں انصاف سے کام نہیں لیا۔جس پر رسول کریم نے فرمایا کہ إِنَّهُ يَخْرُجُ مِنْ مِنْضِنِي هَذَا قَوْم يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ رَطْبَا لَا يُجَاوِزُ حَنَا جِرَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ الشَّهُمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ - ابخاری کتاب المغازی باب بعث علی ابن ابی طالب و خالد ابن الوليد الى اليمن قبل حجة الوداع یعنی اس شخص کی نسل سے ایک قوم نکلے گی جو قرآن کریم بہت پڑھیں گے لیکن وہ ان کے گلے سے نہیں اترے گا۔اور وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جس طرح تیرا اپنے نشانہ سے نکل جاتا ہے۔دوسری دفعہ ان خیالات کی دبی ہوئی آگ نے ایک شعلہ حضرت عمر کے وقت میں مارا جب کہ ایک شخص نے بر سر مجلس کھڑے ہو کر حضرت عمر جیسے بے نفس انسان اور امت محمدیہ کے اموال کے محافظ خلیفہ پر اعتراض کیا کہ یہ کرتا آپ نے کہاں سے بنوایا ہے۔مگر ان دونوں وقتوں میں اس فتنہ نے کوئی خوفناک صورت اختیار نہیں کی کیونکہ اس وقت تک اس کے نشود نما پانے کے لئے کوئی تیار شدہ زمین نہ تھی۔اور نہ موسم ہی موافق تھا۔ہاں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے وقت میں یہ دونوں باتیں میسر آگئیں اور یہ پودا جسے میں اختلال کا پودا کہوں گا ایک نہایت مضبوط تنے پر کھڑا ہو گیا اور حضرت علی کے وقت میں تو اس نے ایسی نشو و نما پائی کہ قریب تھا کہ تمام اقطار عالم میں اس کی شاخیں اپنا سایہ ڈالنے لگیں۔مگر حضرت علی نے وقت پر اس کی مضرت کو پہچانا اور ایک کاری ہاتھ کے ساتھ اسے کاٹ کر گرا دیا اور اگر وہ بالکل اسے مٹا نہ سکے تو کم از کم اس کے دائرہ اثر کو انہوں نے بہت محدود کر دیا۔