انوارالعلوم (جلد 4) — Page 238
٢٣٨ اصلاح اعمال کی تلقین نے فرمایا ہے۔انسان کو ہوشیار رہنا چاہئے۔اس کے جسم میں ایک ایسا ٹکڑا ہے کہ وہ خراب ہو جائے تو اس کا سارا جسم خراب ہو جاتا ہے اور وہ اچھا ہو تو سارا جسم اچھا ہوتا ہے اور وہ دل ہے۔(ابن ماجه كتاب الفتن باب الوقوف عند الشبهات) پس جب کسی کے دل میں بدخیال آتے ہیں تو اس کا سارا جسم برا ہو جاتا ہے اور جب نیک خیال آتے ہیں تو اس کا سارا جسم اچھا یا ہوتا ہے۔اس لئے قلب کا میل کرنا اور اس میں پاکیزگی پیدا کرنا نہایت ضروری ہے اور میں نے بتایا ہے جس کا قلب صاف ہو وہ گھر بیٹھے بیٹھے دور دور تبلیغ کر رہا ہوتا ہے وہ جاپان میں تبلیغ کرتا ہے۔وہ چین میں تبلیغ کرتا ہے وہ یورپ میں تبلیغ کرتا ہے وہ امریکہ میں تبلیغ کرتا ہے گویا وہ ساری دنیا میں تبلیغ کر رہا ہوتا ہے۔دیکھو حضرت مسیح موعود ساری دنیا میں حضرت مسیح موعود کے ذریعہ چلی ہوئی رو تبلیغ کرنے نہیں گئے۔لیکن آپ نے جو رو چلائی وہ ہر جگہ پھیل رہی ہے اور تمام اقوام میں مذہب کا چرچا ہو رہا ہے۔چاہے لوگ اس وقت حضرت مسیح موعود کو سچا نہ سمجھیں اور آپ کو قبول نہ کریں لیکن جس طرح ایک بے ہوش کی آنکھ کھلتی ہے تو اس کا ہاتھ سب سے پہلے اسی چیز پر پڑتا ہے جو اس کے قریب ہوتی ہے۔اسی طرح ان لوگوں کی غفلت سے جو آنکھ کھل رہی ہے تو گو ان کی توجہ انہیں باتوں کی طرف ہو رہی ہے جو ان کے زیادہ قریب ہیں لیکن جب زیادہ آنکھ کھل جائے گی تو اصل بات کی تی طرف بھی توجہ کرنے لگیں گے لیکن اس سے یہ تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود نے جو رو چلائی وہ ساری دنیا میں پھیل رہی ہے۔پس اس میں شک نہیں کہ قلب کی رو ساری دنیا میں پھیلتی ہے۔اور اس میں بھی شک نہیں کہ پاس والوں پر زیادہ اثر ڈالتی ہے۔لیکن نبی چونکہ مرکز ہوتا ہے اس لئے ایک مقام پر کھڑا ہو کر رو کو پھیلاتا ہے اور اس طرح اس کی رو کا جو اثر ہوتا ہے وہ اس کے جگہ جگہ پھرنے سے نہیں ہو سکتا۔حضرت مسیح موعود ابتداء میں کچھ عرصہ کئی جگہ گئے ہیں مگر بعد میں ایک مقام پر قائم ہو گئے۔اسی طرح نبی کریم نے ابتدائی زمانہ میں تبلیغ کے لئے مختلف مقامات پر جاتے رہے مگر بعد میں جنگوں کے لئے تو آپ کو جانا پڑا مگر تبلیغ کے لئے نہیں گئے۔اسی طرح حضرت مسیح علیہ السلام بھی کشمیر تک تو آئے مگر پھر ٹھہر گئے۔تو انبیاء ابتدائی زمانہ میں پھرتے ہیں مگر بعد میں ایک مرکز پر قائم ہو جاتے ہیں اور اسی جگہ بیٹھے ہوئے دور دور اپنا اثر پہنچاتے رہتے ہیں