انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 237 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 237

انوار العلوم جلد ۴ ۲۳۷ اصلاح اعمال کی تلقین بد کو روک دیتا ہے اور یہ کوئی مشکل بات نہیں ہے۔ جب انسان خدا تعالیٰ کی طرف جھک جائے تو دل خود بخود قابو میں آجاتا ہے اور نیک تحریکیں پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہیں۔ ہماری جماعت کے لوگوں کے لئے سب قلب کی اصلاح سب سے اصلاح سب سے ضروری ہے سے پہلے یہ بات نہایت ضروری ہے کہ وہ اپنے خیالات اور ارادوں کی اصلاح کریں بہت لوگ اس کی پرواہ نہیں کرتے حالانکہ سب سے ضروری میں بات ہے کہ انسان کو اپنے قلب پر قبضہ حاصل ہو اور جس کو دل پر قبضہ اور اختیار حاصل ہو گیا اسے سب کچھ حاصل ہو گیا۔ رسول کریم ال نے حضرت ابوبکر ان کے متعلق فرمایا کہ ابو بکر نماز روزہ زکوۃ اور حج کی وجہ سے فضیلت نہیں رکھتا بلکہ اس چیز کی وجہ سے فضیلت رکھتا ہے جو اس کے قلب میں ہے - النزهة المجالس مصنفہ شیخ عبدالرحمان العفوری جلد ۲ صفحه ۱۵۳ مطبوعہ مصر تو در حقیقت قلب میں پیدا ہونے والی چیز ہی ایسی ہے جو ظاہری اعمال پر بہت بڑی فضیلت رکھتی ہے بہت لوگ نمازیں پڑھتے، ھے روزے ر۔ رکھتے، زکوۃ دیتے، حج کرتے ہیں لیکن انہیں کچھ نہیں حاصل ہوتا۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ان کی نیت درست اور ارادہ ٹھیک نہیں ہوتا۔ رسول کریم اللہ فرماتے ہیں ایک انسان ہوتا ہے جو ساری عمر جنتیوں والے کام کرتا رہتا ہے لیکن اس کے دل میں کوئی ایسی بات ہوتی ہے کہ مرتے وقت اسے ایسا دھکا لگتا ہے کہ دوزخ میں جاکر گرتا ہے۔ اسی طرح ایک انسان ساری عمر ایسے کام کرتا رہتا ہے جو بظاہر دوزخیوں والے ہوتے ہیں اور وہ دوزخ کے قریب پہنچ جاتا ہے لیکن اس کے قلب میں ایسی بات ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ اسے دوزخ میں گرنے سے کھینچ لیتا اور جنت میں داخل کر دیتا ہے۔ (ترمذی ابواب القدر باب ما جاء ان الاعمال بالخواتيم، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف ظاہری اعمال کامیابی کے لئے کافی نہیں ہوتے۔ ظاہری اعمال خواہ انسان کتنے ہی کرے اگر اس کے قلب میں نور ایمان اور اخلاص نہ ہو تو چھوٹی چھوٹی باتوں سے اسے ٹھوکر لگ جاتی ہے اور کہیں سے کہیں جا پڑتا ہے اور چونکہ اس کے اعمال بہت ہی محدود اور سطحی ہوتے ہیں۔ ہوتے ہیں۔ اس لئے ان کا بہت کم نتیجہ نکلتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں روحانی لہریں بہت گہری اور پائیدار ہوتی ہیں اور وہ قلب سے نکلتی ہیں اس لئے قلب کی اصلاح سب سے ضروری اور اہم ہے ایسا انسان جو ظاہری طور پر اسلام کے احکام پر عمل کرتا ہے۔ مگر اس کے قلب میں کوئی ایسی لہر پیدا ہوتی ہے جو اسلام کی اشاعت میں روک ہے تو وہ اسلام کی مخالفت کرنے والا ہے۔ اس لئے رسول کریم