انوارالعلوم (جلد 4) — Page 235
انوار العلوم جلد ۴ ۲۳۵ اصلاح اعمال کی تلقین ہوئی پڑھنے سے ایسا مزا نہیں آتا۔ جس پر کہہ دیا جاتا ہے کہ لکھنے والے نے اچھی طرح نہیں لکھی لیکن بات یہ ہوتی ہے کہ لکھنے والا تو صرف الفاظ ہی لکھتا ہے۔ وہ لہریں جو تقریر کرنے والے سے نکل رہی ہوتی ہیں ان کو محفوظ نہیں کر سکتا۔ اس لئے صرف الفاظ کا اتنا اثر نہیں ہوتا جتنا لہروں کے ساتھ ملنے سے ہوتا ہے جو قرب کی وجہ سے سننے والے تک پورے طور پر پہنچ رہی ہوتی ہیں۔ اس لئے تقریر سننے سے زیادہ اثر ہوتا ہے اور پڑھنے کے وقت ایک تو بعد ہوتا ہے اور دوسرے صرف لفظ ہوتے ہیں اس لئے وہ لطف نہیں آتا نہ اتنا اثر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مجد مبعوث کئے مجددین کے مبعوث ہونے کی وجہ بھی وجہ ہے کہ ہمیشہ اسلام میں حد دین مبعو اس کے جاتے رہے ہیں کیونکہ قرآن کریم کے صرف الفاظ سے وہ اثر نہیں ہو سکتا جو خدا کے صاف کئے ہوئے کسی انسان کے منہ سے نکلنے پر ہو سکتا ہے۔ تو جو ہر کسی وجود سے نکلتی ہے وہ ضرور اثر کرتی ہے اور کبھی ضائع نہیں جاتی۔ یہ الگ بات ہے کہ جو ہر زیادہ زور دار ہوتی ہے وہ زیادہ اثر کرتی ہے اور جو کمزور ہوتی ہے وہ کم اثر کرتی ہے۔ وہ اسی طرح قریب کی چیزوں پر زیادہ اثر ہوتا ہے اور بعید پر کم۔ لیکن اثر ہوتا ضرور ہے جس سے صاف طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ کوئی شخص اپنے آپ کو غیر ذمہ دار سمجھ کر یہ خیال نہ کرے کہ میں جو کچھ کہتا ہوں اس کا کوئی اثر نہیں ہو گا۔ تو زمر شخص جو سخت غلطی کرنے والا انسان ایک ایسا فن و فتنہ وفساد کی کوئ بات منہ سے کال کر یہ ہوں۔ میری بات کا کوئی اثر نہیں ہے۔ وہ سخت غلطی کرتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس کی بات کا ظاہرا اثر نہ ہو مگر اس سے جو ہر چلتی ہے وہ ضرور ایسے لوگوں کو خراب کرتی ہے جو کمزور ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ خواہ اس کے پاس ہوں یا دور ان پر ضرور کچھ نہ کچھ اثر ہو گا اور جن میں زیادہ طاقت ہوگی وہ تو اس لہر کا مقابلہ کریں گے لیکن اگر کم ہوگی تو متاثر ہو جائیں گے پس کسی کو یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ وہ غیر ذمہ دار ہے اور اس کی بات کا کوئی اثر نہیں ہو سکتا۔ اثر ضرور ہوتا ہے۔ اس لئے مؤمن کو چاہئے کہ اپنا ہر ایک کام ہر ایک فعل اور مؤمن کو احتیاط کرنی چاہئے ہر ایک بات کرتے وقت نہایت احتیاط کرے اور کوئی ایسی بات نہ کرے جس سے کسی قسم کا فتنہ پیدا ہوتا ہو کیونکہ جو ایسا نہیں کرتا وہ اپنے ہاتھ اپنے