انوارالعلوم (جلد 4) — Page 234
ا العلوم جلدم مهم ۲۳ اصلاح اعمال کی تلقین صرف الفاظ اس قدر اثر نہیں رکھتے جس قدر وہ رو رکھتی ہے جو قلب سے نکلتی ہے اور چونکہ ہر قلب ایسا نہیں ہو تا جو اسے دور سے محسوس کر سکے اس لئے قریب ہونے کی وجہ سے چونکہ رو کی شدت بڑھ جاتی ہے اور جلدی اثر ہو جاتا ہے اس لئے قرب کا حکم دیا گیا ہے یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود کو بتایا گیا کہ جو تیرے زمانہ کے لوگ ہوں گے وہ اچھے ہوں گے اور جو ان سے بعد کے ہوں گے وہ ان سے کم درجہ کے ہوں گے اور جو ان سے بعد کے ہوں گے وہ ان سے کم درجہ کے ہوں گے۔اسی طرح رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے۔بخاری کتاب المناقب باب فضائل اصحاب النبی 2 ) اب سوال ہوتا ہے کہ ان سب کی اصلاح تو قرآن کریم اور احادیث کے ذریعہ ہوئی اور اسی طرح سے وہ پاک و صاف ہوئے پھر وجہ کیا ہے کہ رسول کریم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ کے لوگ اعلیٰ درجہ رکھتے ہیں اور ان کے بعد کے ان سے کم اور ان کے بعد کے ان سے بھی کم۔اس کی وجہ یہی ہے کہ پہلوں پر جس قدر رسول کریم ﷺ اور حضرت مسیح موعود کے وجود پاک سے نکلی ہوئی ہر کا اثر ہوا دہ تو بعد زمانی کی وجہ سے بعد والوں پر کم ہو تا گیا دیکھو پانی میں جب پتھر پھینکا جائے تو قریب قریب کی لہریں بہت نمایاں اور واضح ہوتی ہیں اور جوں جوں عمریں پھیلتی جاتی ہیں مدھم ہوتی جاتی ہیں یہی حالت روحانی لہروں کی ہوتی ہے ان پر جوں جوں زمانہ گزرتا جاتا ہے اور وہ پھیلتی جاتی ہیں تو کو متی نہیں مگر ایسی کمزور اور مدھم ہوتی ہیں کہ ہر ایک دل انہیں محسوس نہیں کرتا اور جو محسوس کرتا ہے وہ بھی پورے طور پر محسوس نہیں کر سکتا۔اس لئے جن لوگوں کو روحانیت کی لہر پیدا کرنے والے وجود کا قرب مکانی یا قرب زمانی حاصل ہو تا ہے وہ اس لہر سے زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں اور بعد میں آنے والوں سے بہت بڑھے ہوئے ہوتے ہیں۔قرب کا اثر قرب مکانی اور زمانی کے اثر کا عام اور ظاہری ثبوت اس سے مل سکتا ہے کہ آپ لوگوں نے کئی دفعہ تجربہ کیا ہو گا اگر کسی کو کوئی کام کرنے کے لئے خط لکھا جائے تو وہ انکار کر دیتا ہے اگر خود اس کے پاس جا کر کہا جائے تو کام کر دیتا ہے۔ہر ایک کہنے والا نہیں جانتا کہ اس کی کیا وجہ ہے اور کہا جاتا ہے کہ منہ دیکھے کالحاظ کیا گیا ہے لیکن دراصل وہ رو کا اثر ہوتا ہے جو قرب کی وجہ سے زیادہ پڑتا ہے اور اس طرح جس کو کچھ کہا جائے وہ مان لیتا ہے۔اسی طرح وہی تقریر جو ایک جگہ مقرر کے منہ سے سنی جائے جب چھپی ہوئی پڑھی جائے تو اس کا وہ اثر نہیں ہوتا جو سننے کے وقت ہوتا ہے۔اس وقت بڑا مزا اور لطف آتا ہے لیکن چھپی