انوارالعلوم (جلد 4) — Page 225
انوار العلوم جلد ۴ ۲۲۵ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ اصلاح اعمال کی تلقین اصلاح اعمال کی تلقین فرموده ۱۲ فروری ۱۹۱۹ ء بر مکان میاں چراغ دین صاحب لاہور) حضور نے سورہ فاتحہ پڑھ کر فرمایا انسان کی زندگی اور اس کی موت اس کے لئے بہت بڑے سبق اپنے اندر رکھتی ہے مگر ان کے لئے جو تدبر اور فکر کرتے ہیں۔انسان کو جب ہم دیکھتے ہیں تو اس کی زندگی اور انسان اور حیوان کی زندگی میں فرق دوسرے حیوانوں کی زندگی میں بہت بڑا فرق پاتے ہیں۔دوسرے جس قدر حیوانات ہیں ان کی زندگی ایک دوسرے کے ساتھ ایسی وابستہ ہے جیسی انسان کی حیوان زیادہ سے زیادہ ایک نر اور ایک مادہ کا محتاج ہوتا ہے اس سے زیادہ ان کے لئے کسی ربط اور تعلق کی ضرورت نہیں ہے اور جو ادنی درجہ کے حیوان ہیں ان کی تو یہ حالت ہوتی ہے کہ ایک ہی وجود میں نر اور مادہ کی طاقت ہوتی ہے ہاں جو ان سے بڑے ہوتے ہیں ان میں نر کو مادہ کی اور مادہ کو نر کی ضرورت ہوتی ہے۔اس سے زیادہ تیسرے کے وہ محتاج نہیں ہوتے۔مگر انسان کو خدا تعالیٰ نے ایسا پیدا کیا ہے کہ اس کے متعلق ایک دو تین کا سوال نہیں بلکہ اس کی ضروریات ایسی وسیع ہیں کہ تمام بنی نوع انسان کی حرکات کا اثر ایک دوسرے پر پڑتا ہے اور باریک در باریک تغیر جو اگر چه نهایت خفیف ہوتا ہے مگر اثرات کے لحاظ سے اس قدر وسیع ہوتا ہے کہ تمام دنیا میں پھیل جاتا ہے اور گو بہت سے اثر ایسے ہوتے ہیں جو نمایاں طور پر نظر نہیں آتے مگر حقیقتاً انسان کے اعمال خیال گفتگو اور حرکات پر بہت اثر ، ڈالتے ہیں اور بعض اثر ایسے بھی ہوتے ہیں جو نمایاں طور پر نظر آتے ہیں۔