انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 220 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 220

انوار العلوم جلد ) ۲۲۰ حقیقت از دو شخصوں کی جو مؤکد بہ عذاب قسم کھائیں ، شہادت بہم پہنچائیں ، جو اس بات کی شہادت دیں کہ جنازہ کی تحریک کے وقت بھی حضرت سے عرض کر دیا گیا تھا کہ وہ غیر احمدی تھا۔ہاں مرزا خدا بخش کی شہادت نہ ہو کیونکہ اس کی نسبت قرآن کریم کا حکم ہے وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًا - ( النور : ۵) باقی رہا میری سالی کی شادی کا مسئلہ اس کی نسبت بھی مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ باوجود واقعات کے اظہار کے آپ خلاف بیانی سے کام لیتے ہیں۔مولوی صاحب! میں بار بار بیان کر چکا ہوں کہ میں ہرگز شادی میں شامل نہ تھانہ مجھے علم ہوا کہ شادی ہونے والی ہے۔میں کہیں سفر پر گیا ہوا تھا۔وہاں سے واپسی پر میں نے اچانک سنا کہ شادی ہو گئی ہے۔پس آپ اپنی جان پر رحم کر کے خدا کے خوف سے کام لیں اور اس افتراء کی آئندہ اشاعت سے باز رہیں۔حضرت مسیح موعود نے اس نکاح کے اصل حالات سے واقف ہوتے ہوئے ہر گز اجازت نہیں دی بلکہ جب آپ کو یہ معلوم ہوا کہ لڑکا غیر احمدی ہے تو ڈاکٹر صاحب کے گھر کے لوگوں کو کہا کہ کیا ڈاکٹر صاحب کو معلوم نہیں کہ غیر احمدی سے رشتہ ہم نے منع کیا ہوا ہے۔پھر انہوں نے لڑکی غیر احمدی لڑکے سے کیوں منسوب کی (حضرت صاحب کی حیات میں یہ نکاح نہیں ہوا، مگر پھر فرمایا کہ ابھی اس امر کا ذکر نہ کریں بلکہ ہم حقیقتہ الوحی دیں گے وہ ڈاکٹر صاحب کو دینا کہ لڑکے کو پڑھنے کے لئے دیں اگر اس کو پڑھ کر وہ احمدی ہو گیا تو پھر ہم اجازت دیں گے۔اس کے بعد والدہ صاحبہ کی بیماری کی وجہ سے حضرت صاحب لاہور چلے گئے اور وہیں فوت ہو گئے اور یہ معاملہ یوں ہی رہ گیا۔چونکہ والدہ سوتیلی تھیں اس لئے اس خیال سے کہ لوگ اس کو عداوت نہ خیال کریں یا اس ادب سے کہ حضرت صاحب نے کہا تھا کہ ابھی ذکر نہ کریں وہ خاموش رہیں اور نکاح ہو گیا۔اور آپ کو یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ لڑکی بالغ اور غیر احمدی تھی اور لڑکی کی حقیقی والدہ بھی اس وقت غیر احمدی تھیں۔پس اس صورت میں نکاح میں کوئی خلاف شریعت بھی بات نہیں۔اب بھی بعض دفعہ غیر احمدی لڑکی کے نکاح کی میں نے احمدیوں سے اجازت دی ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ اصل واقعہ معلوم ہونے کے بعد آپ اس افتراء کی بار بار کی اشاعت سے پر ہیز کریں گے۔کیونکہ آخر ایک دن اللہ تعالیٰ کو منہ دکھاتا ہے۔خصوصاً جو باتیں کہ واقعات سے متعلق ہیں اور ان واقعات کا پہلے اظہار ہو چکا ہے ان کو تو بار بار غلط پیرایہ میں ظاہر نہ کریں اور لوگوں کو دھوکا نہ دیں۔