انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 203 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 203

لوم جلد ۴ ٢٠٣ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلَّى عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ مکرم و معظم مولوی صاحب و السلام علیکم! آپ کی طرف سے ایک مطبوعہ چٹھی جس پر تاریخ اشاعت درج نہیں مجھے ملی جسے پڑھ کر مجھے بہت خوشی ہوئی کہ کسی نہ کسی وجہ سے آپ کو بھی طیش ترک کر کے ہمدردی اور شرافت سے کسی فیصلہ پر پہنچنے کا خیال پیدا ہو گیا ہے۔گو دوسرے واقعات اس بات کے منافی ہیں کہ آپ کو میری بیماری میں مجھ سے ہمدردی پیدا ہوئی کیونکہ آپ اور آپ کے ہم خیالوں کی طرف سے مجھ سے جو معاملہ ہوتا چلا آیا ہے وہ سخت بغض و کینہ کا نتیجہ تھا۔چنانچہ آپ کے اخبار ”پیغام صلح" میں عزیز عبدالحی مرحوم کی وفات پر اشارۃ اور کنایۃ اس بات کا اعلان ہوتا رہا ہے کہ اس کی وفات طبعی ذرائع سے نہیں ہوئی بلکہ اس میں کچھ اسرار ہیں۔جو فعل کہ ایک کمینہ سے کمینہ دشمن بھی نہیں کر سکتا اور اس وقت تک کہ انسان دشمنی میں حد سے بڑھ کر انسانیت کو بھی ترک نہ کر دے اس سے اس قسم کی امید نہیں کی جاسکتی اور آپ کی تحریرات میں بھی بارہا معمولی آداب کو نظر انداز کیا جاتا رہا ہے پس اندریں حالات یہ آپ کی تحریر تعجب و حیرت میں ڈالتی ہے۔مگر چونکہ مؤمن کا کام حسن ظن کرنا ہے آپ کی اس کے تبدیلی کو میں فیصلہ کی کچی خواہش اور ہمدردی کا نتیجہ سمجھ کر بہت خوش ہوں۔اور یقین رکھتا ہوں کہ اگر واقع میں یہ آپ کا فعل سچی ہمدردی اور اخلاص کا نتیجہ ہے اور کوئی اور غرض پوشیدہ نہیں اور اس شیریں بیانی سے جس میں بار بار سخت کلامی تک نوبت پہنچ جاتی ہے لوگوں بر اثر ڈالنا مقصود نہیں تو اللہ تعالیٰ آپ کو اس ہمدردی اور توجہ کے بدلہ میں حق اور صداقت کی طرف ہدایت کرے گا اور اس کشاکش سے جس میں آپ اس وقت مبتلاء ہیں نجات دے کر اطمینان قلب عطا فرما دے گا۔کیونکہ وہ کبھی کسی کے عمل کو ضائع نہیں کرتا لیکن اگر اس تحریر کی غرض مجھ سے ہمدردی نہیں اور یہ کھلی چٹھی آپ کی اسلامی اخوت کا نتیجہ نہیں یہ ایک موقع