انوارالعلوم (جلد 4) — Page 187
انوار العلوم جلد ۴ JAZ حقیقته الرويا سے ایک حصہ تو پورا ہو گیا مگر دوسرا حصہ باقی تھا اور وہ ڈاکٹر صاحب کی موجودگی تھی۔ڈاکٹر صاحب ایک مہینہ کے ارادہ سے علی گڑھ اپنی چھوٹی لڑکی کی ٹانگ کا آپریشن کرانے کے لئے گئے تھے اور ابھی ان کے آنے کی کوئی امید نہ تھی۔مگر دوسرے دن ہمیں گورداسپور جانا تھا کہ اتنے میں ڈاکٹر صاحب آگئے۔اور بیان کیا کہ جس ڈاکٹر نے آپریشن کرنا تھا اسنے ابھی ٹانگ کاٹنے سے انکار کر دیا ہے۔اور کہتا ہے کہ ایسا کرنا سرجری کی شکست ہے میں پہلے یونسی علاج کروں گا۔اس لئے میں نے سردست ٹھہرنا مناسب نہ سمجھا اور واپس آگیا ہوں (گو چند ماہ بعد ) اس ڈاکٹر کو مجبورا ٹانگ کاٹنی پڑی جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پہلی تحریک محض اللہ تعالی کی طرف سے تھی) غرض اس طرح دوسرا حصہ بھی پورا ہو گیا۔اب دیکھو یہ ایک مرتب خواب تھی اور اس وقت آئی تھی جب حالات بالکل خلاف تھے۔کیوں کہ کمشنر صاحب کی چٹھی آچکی تھی کہ میں اس ضلع میں اس وقت نہیں آسکتا۔اور کوئی انسانی دماغ اس بات کو تجویز نہیں کرتی سکتا تھا کہ فورا وہاں ان کو کام پیدا ہو گا اور پھر وہ اس کی اطلاع دے کر امر تسر آنے سے روک دیں گے اور ادھر ڈاکٹر صاحب بھی غیر متوقع طور پر واپس آجا ئیں گے۔اس خواب کے جس قدر جزو ہیں وہ نہ صرف یہ کہ ایسے وقت میں بتائے گئے ہیں کہ جب کہ ان کی تائید میں کوئی سامان موجود نہ تھا۔بلکہ ایسے وقت میں بتائے گئے جب کہ ان کے خلاف سامان موجود تھے۔تو اخبار غیبیہ کے لئے شرط نہیں ہے کہ ماموروں کو ہی بتائی جائیں۔اوروں کو بھی بتائی جاتی ہیں۔اور ان کے منجانب اللہ ہونے اور قیاسی نہ ہونے کی ایک بڑی علامت یہ ہوتی ہے کہ وہ مرکب ہوتی ہیں اور ہر ایک جزو ان کا پورا ہو جاتا ہے۔تیسری علامت رؤیا کی یہ ہے کہ ایسی خبریں آثار اور علامات کے ظاہر ہونے سے بھی پہلے بتائی جاتی ہیں۔پس جب ایسا ہو تو اس کو قیاس اور حدیث النفس نہیں کہا جا سکتا۔چوتھی علامت یہ ہے کہ خواب کے ذریعہ نئے نئے علوم سکھلائے جاتے ہیں۔شیطان میں نئے علوم سکھلانے کی طاقت نہیں اور نہ ہی نفس کو یہ طاقت ہے کہ جو باتیں اسے معلوم ہی نہیں وہ بتا دے۔تو جس خواب کے ذریعہ سے نئے علوم معلوم ہوں سمجھ لو کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔نئے علوم کی تازہ مثال حضرت مسیح موعود کا واقعہ ہے۔آپ کو اللہ تعالٰی نے بتایا کہ آپ عربی میں عید کا خطبہ پڑھیں۔آپ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے علم دیا جائے گا۔آپ نے اس سے پہلے کبھی عربی میں تقریر نہ کی تھی۔لیکن جب تقریر کرنے کے لئے آئے اور تقریر