انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 175 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 175

حقیقة الرؤيا ۱۷۵ ۴ کے مدعی سے دھو کا لگ سکتا ہے اس لئے اس کو جلدی پکڑ لیا جاتا ہے۔چنانچہ ایک واقعہ مشہور ہے کہ کوئی شخص خدا بن بیٹھا تھا اور اپنے ساتھ چند چیلے ملالئے تھے جو اس کی حفاظت کرتے تھے۔ایک دن وہ اکیلا بیٹھا تھا۔ایک زمیندار نے آکر پکڑ لیا اور یہ کہہ کر کہ تو ہی وہ خدا ہے جس نے میرے باپ کو مارا تھا مارنا شروع کر دیا۔اسی طرح جس قدر اس کے مرے ہوئے رشتہ دار تھے ان کا نام لیتا جاتا اور پیٹتا جاتا۔آخر اس نے اقرار کیا کہ میں خدا نہیں تب اس نے چھوڑا۔تو خدائی کا دعویٰ کرنے والا تو بہت جلد سیدھا کیا جا سکتا ہے اور اس سے کسی کو دھو کا بھی نہیں لگ سکتا اس لئے اسے ڈھیل دی جاتی ہے۔مگر جھوٹے نبی سے دھو کا لگ سکتا ہے اس لئے اسے فوری سزادی جاتی ہے۔اسی طرح بعض لوگوں کا خیال ہے کہ حدیث حدیث النفس والا انسان اور ہلاکت النفس والا انسان بھی ہلاک ہو جاتا ہے۔مگر میرا یہ خیال نہیں ہے کیونکہ اس بیچارے کی تو عقل ہی ماری جاتی ہے اس میں اس کا کیا قصور ہے۔ہلاکت تو اس کے متعلق ہے جو جان بوجھ کر جھوٹ بناتا ہے۔اس لئے ہو سکتا ہے کہ ایک شخص پاگل ہو اور وہ دعوی کرے کہ مجھے خدا کی طرف سے الہام ہوتے ہیں لیکن ہلاک نہ ہو۔اگر کہا جائے کہ پھر ایک پاگل اور سچے علم میں کیا امتیاز رہا تو یہ درست نہیں کیونکہ پاگل اپنی حرکت اور باتوں سے بہت جلدی شناخت کیا جا سکتا ہے۔پس جس کی عقل ہی ٹھکانے نہیں ہوتی اس کو خدا نے پاگل پنے کی باتیں کرنے سے سزا کیوں دینی ہے پھر لَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا میں صاف ان لوگوں کی طرف اشارہ ہے جو جان بوجھ کر خدا پر جھوٹ بناتے ہیں۔پاگل بیچارہ تو ایسا نہیں کرتا اس لئے اس وعید کے نیچے کیونکر آسکتا ہے۔یہ میں نے جھوٹے الہام اور خواب بنانے والے کی علامت بتائی حدیث النفس کی پہچان ہے۔اب رہی حدیث النفس والے کی پہچان۔اس کا ثبوت میں پہلے دے آیا ہوں کہ ڈاکٹروں نے ثابت کر دیا ہے کہ اس کے نفس سے ایسے خیالات پیدا ہوتے ہیں۔لیکن اس کے متعلق ایک پختہ علامت یاد رکھنی چاہئے۔بعض دفعہ ایسے لوگوں کو بھی جو کامل مؤمن نہیں ہوتے ایسی خوابیں آجاتی ہیں۔عام طور پر مشہور ہے کہ رسول کریم کو کبھی احتلام نہیں ہوا تھا اور ہمارے لئے اس کی تصدیق بھی ہو گئی ہے۔حضرت سیح موعود بھی فرماتے تھے کہ مجھے بھی کبھی نہیں ہوا۔چنانچہ مجھے یاد ہے ایک دفعہ مسجد میں اس