انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 151 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 151

دم جلد ۴ اها بنیاد کو گرا دیا جائے تو پھر کسی مذہب کا کچھ باقی نہیں رہتا۔باقی حملے اور اعتراض اس قسم کے ہیں جو ایک ایک یا دو دو یا تین تین مذاہب پر پڑتے ہیں اور دوسرے ان سے محفوظ رہتے ہیں۔لیکن یہ ان مسائل میں سے ہے کہ اس کے گرنے سے سارے مذاہب باطل ہو جاتے ہیں۔ایک دو اور بھی ایسے ہی مسائل ہیں جن کے باطل ہونے پر یہی نتیجہ نکلتا ہے جیسا کہ ہستی باری کا مسئلہ ہے۔پس اگر یہ ثابت ہو جائے کہ الہام رویا ، کشف اور خواب کوئی چیز نہیں تو اس کے بعد تمام مذاہب کو بیخ و بن سے اکھیڑنے کے لئے کسی اور حملہ کی ضرورت نہیں رہ جاتی۔اور یہ نتیجہ سوائے ایک دو اور مسائل کے باقی باتوں سے نہیں نکلتا مثلاً اگر کوئی یہ ثابت کر دے کہ (نعوذ باللہ ) رسول کریم بچے نہ تھے۔تو اس سے یہ معلوم ہو گا کہ اسلام سچا نہیں ہے۔نہ یہ کہ اور بھی کوئی مذہب سچا نہیں ہے۔یا اگر توریت کو انسان کا کلام ثابت کر دیا جائے تو اس سے یہودی مذہب باطل ہو جائے گا نہ کہ دوسرے مذاہب بھی۔یا اگر دیدوں کو انسانی باتوں کا مجموعہ ثابت کر دیا جائے تو اس سے ہندو مذہب جھوٹا ہو جائے گا نہ کہ باقی مذہب بھی۔لیکن اگر کوئی الہام اور وحی کو ہی غلط ثابت کر دے تو سارے کے سارے مذاہب باطل ہو جائیں گے اور صرف دہریت ہی دہریت رہ جائے گی۔پس اس مسئلہ کا سمجھنا اور یاد رکھنا نہایت ضروری ہے کیونکہ یہی ہر ایک مذہب کی بنیاد ہے۔اگر اس سے واقفیت نہ ہو تو پھر کسی بات کی واقفیت کچھ کام نہیں دے سکتی۔مگر افسوس کہ بہت کم لوگ ایسے ہیں جو اس کے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔رؤیا کشف اور الہام کیا ہوتا ہے ؟ پہلے میں دعوئی بتاتا الہام کشف اور رؤیا کی تعریف ہوں۔جو لوگ اس بات کے مدعی ہیں کہ الہام ، وحی رویا اور کشف ایک حقیقت ہے وہ ان کی یہ تعریف کرتے ہیں کہ کسی بیرونی ہستی کی طرف سے ان حواس ظاہری کے علاوہ ان جو اس کے ذریعہ جو انسان کے باطن میں پائے جاتے ہیں کسی چیز کا دکھائی دینا یا کان میں ڈالا جانا خواہ ظاہری کانوں میں ڈالی جائے یا باطنی میں یا جو زبان پر جاری ہو جائے اس کا نام وحی الہام، رویا اور کشف ہے۔دکھائی دینے والی چیزیں دو قسم کی ہوتی ہیں۔یا تو تمثیل کے رنگ میں یا اصل نقشہ اور ہو بہو شکل میں پیش کی جاتی ہے۔یہ ہے تعریف۔آگے یہ بحث الگ ہے کہ یہ تعریف ٹھیک ہے یا نہیں۔یا ایسا ہوتا بھی ہے یا نہیں۔لیکن وحی اور