انوارالعلوم (جلد 4) — Page 123
انوار العلوم جلد ۴ علم حاصل کرو نہیں ہوگا۔پس جب یہ بات ہے تو سمجھ لو کہ علم دین کا حاصل کرنا کتنا ضروری ہے اور نہ حاصل کرنا کس قدر نقصان دہ ہے۔علیم دین کی دو قسمیں لیکن یہ بات بھی یاد رکھو کہ دین کا علم بھی دو قسم کا ہوتا ہے اور جب تک دونوں کو حاصل نہ کیا جائے کوئی انسان کامیاب نہیں ہو سکتا۔کیا اس وقت بہت سے مولوی ایسے نہیں جو نماز روزہ وغیرہ احکام شرعیہ کا علم رکھتے ہیں مگر وہ اسلام سے ایسے ہی دور ہیں جیسے عیسائی اور ہندو وغیرہ بلکہ ان سے بھی زیادہ۔ایک عیسائی اور ہندو کے دل میں تو کچھ نہ کچھ خدا کا خوف اور ڈر باقی ہو گا مگر ان کے دل میں کچھ بھی نہیں۔تو محض نماز روزہ کے مسئلے جاننے سے دین کا علم نہیں آجاتا اور نہ ان مسائل کے جاننے سے اس وقت تک کچھ فائدہ ہو سکتا ہے جب تک کہ انسان روحانیت کا علم نہ سیکھے۔نماز، روزہ، زکوۃ، حج ، انبیاء فرشتے جنت دوزخ وغیرہ امور ظاہری شریعت سے ہیں ان کے ساتھ جب تک روحانیت کا علم نہ ہو جو تقویٰ کہلاتا ہے اس ہے اس وقت تک ظاہری علم سے کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا اور نہ کوئی عالم دین کہلا سکتا ہے۔پس علم دین سیکھنے کی ہدایت کرنے سے میری مراد یہ ہے کہ ان دونوں علموں کو سیکھو۔ظاہری کو بھی اور باطنی کو بھی۔اور یہ خوب یاد رکھو کہ ظاہری علم کے بغیر باطنی علم نہیں آسکتا اور باطنی علم کے بغیر ظاہری کچھ فائدہ نہیں دے سکتا۔دیکھو کوئی اخروٹ اور بادام کی گری اس وقت تک نہیں پک سکتی جب تک کہ اس پر چھلکا نہ ہو اور کوئی آم اس وقت تک رس نہیں دے سکتا جب تک کہ اس پر چھلکے کا خول موجود نہ ہو۔اسی طرح کوئی خربوزہ اس وقت تک گودا نہیں پکا سکتا جب تک کہ اس پر چھلکا نہ ہو۔پس جس طرح اخروٹ یا بادام کی گری، آم کا رس اور خربوزہ کا گودا خول کے اندر تیار ہوتا ہے اسی طرح نماز، روزہ، زکوۃ، حج چھلکے ہیں جن کے اندر تقویٰ کا گودا تیار ہوتا ہے اور جب تک تقویٰ نہ ہو ان سے کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا۔دیکھو اگر کوئی شخص آم کھا کر اس کا چھلکا کسی کو دے یا بادام اور اخروٹ کی گریاں نکال کر چھلکے آگے رکھ دے تو کیا کوئی اس پر خوش ہو گا۔ہرگز نہیں بلکہ ناراض ہو گا۔اس سے سمجھ لو کہ جو انسان خدا کے آگے محض چھلکے رکھے جن میں مغز اور گودا نہ ہو اسے کس بات کی امید رکھنی چاہئے۔کیا خدا اس سے خوش ہوگا اور اسے انعام دے گا ہرگز نہیں بلکہ سزا دے گا۔اور کہے گا کہ یہ اس سے زیادہ مستوجب سزا ہے جو میرے پاس کچھ لایا ہی نہیں کیونکہ اس نے میری ہتک نہیں کی۔لیکن