انوارالعلوم (جلد 4) — Page 102
انوار العلوم جلد ۴ علم حاصل کرو ی جماعت کا باوجود خطرناک مقابلہ کے بڑھنا اس کی صداقت کی علامت ہے۔پس ان دونوں معیاروں سے ہماری ہی صداقت ثابت ہو رہی ہے۔پھر ہمارے دشمن کیوں نہیں دیکھتے کہ وہ ہمارا مقابلہ نہیں کر رہے بلکہ خدا کا کر رہے ہیں اور ہمیں نقصان نہیں پہنچارہے بلکہ اپنے لئے آپ پھانسی گاڑ رہے ہیں، ہمارے لئے خیر ہی خیر ہے اور انہیں کیلئے ہلاکت آئے گی۔جلسہ پر آنے کی غرض اب میں اس کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ لوگ جو قادیان میں جلسہ کے موقع پر آتے ہیں تو اس میں آپ کی غرض کیا ہے اور اسے کس طرح حاصل کرنا چاہئے۔اگرچہ جو کچھ میں کہنے والا ہوں وہ ایک قلیل جماعت کے متعلق ہے مگر جس کو کسی سے محبت اور الفت ہو وہ کہاں پسند کرتا ہے کہ کوئی بھی محروم رہے۔بات یہ ہے کہ کئی لوگ لیکچر کے وقت ادھر اُدھر پھرتے رہتے ہیں اور لیکچر نہیں سنتے۔اگرچہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے تعداد کے لحاظ سے اس قسم کے لوگ بہت تھوڑے ہیں مگر مجھے محبت اور تعلق کی وجہ سے بہت نظر آتے ہیں کیونکہ مجھے اس بات پر افسوس آتا ہے کہ وہ کمائی جو انہوں نے محنت اور مشقت سے کمائی ہوگی اسے یہاں آکر ضائع کر دیتے ہیں اور بجائے اس کے کہ اللہ تعالی کی رضا کے ماتحت خرچ کر کے اس کے انعام کے مستحق ہوں گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں اس لئے میں خاص طور پر اس بات کی تاکید کرتا ہوں کہ جہاں تک ہو سکے تمام لیکچروں کے سننے اور ان سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کیا کرو۔اگرچہ وہ لوگ جو اس وقت میرے پیش نظر ہیں پچاس ساٹھ سے زیادہ نہیں جو پانچ ہزار کے مجمع کے مقابلہ میں بہت تھوڑے ہیں۔لیکن کیا کوئی ماں جس کے اگر ایک لاکھ بچے ہوں یہ پسند کرے گی کہ اس کا ایک بیٹا بھی بھٹی میں گر کر ہلاک ہو جائے، ہرگز نہیں۔اسی طرح کیا اگر کسی کے ایک کروڑ بھائی بھی ہوں تو وہ یہ گوارا کرے گا کہ ان میں سے ایک دو کو ذبح کر دیا جائے، ہرگز نہیں۔تو محبت اور الفت ایک دو کو نہیں دیکھتی بلکہ چاہتی ہے کہ سارے کے سارے کامیاب ہوں۔کوئی ماں یہ پسند نہیں کر سکتی کہ اس کا کوئی بیٹا ادنیٰ حالت میں رہے کوئی بھائی یہ پسند نہیں کر سکتا کہ اس کا کوئی بھائی خطرے میں پڑے، کوئی دوست یہ گوارا نہیں کر سکتا کہ اس کا کوئی دوست نقصان اٹھائے بلکہ یہی چاہتا ہے کہ اس کے ساتھ تعلق رکھنے والے سارے کے سارے کامیاب ہوں۔اس لئے میں بھی کہ تم سے بہت زیادہ محبت اور تعلق رکھتا ہوں نصیحت کرتا ہوں کہ جہاں تک ہو سکے اپنے