انوارالعلوم (جلد 4) — Page 98
انوار العلوم جلد ۴ ۹۸ علم حاصل کرو زور لگائیں اور ہر وقت چوکس رہنا اپنا فرض سمجھیں۔اس سال مخالفین کی طرف سے جس قدر حملے ہوئے ہیں ان میں سے ایک حملہ وہ باطنی جہاد کا اعلان ہے جو خواجہ حسن نظامی صاحب کی طرف سے ہوا ہے اور جس کا جواب میری طرف سے شائع ہو چکا ہے۔اس میں میں نے لکھا ہے کہ اگر تم کو مباہلہ منظور ہو تو ہمیں ایک ایک ہزار آدمی کو ساتھ لے کر مباہلہ کرنا چاہئے تاکہ ایک اچھی تعداد کے ہلاک ہونے سے کوئی نتیجہ مترتب ہو۔اس کے متعلق میں آپ صاحبان کو اطلاع دیتا ہوں کہ جو دوست ان ہزار آدمیوں میں شامل ہونا چاہیں وہ اپنا نام عبدالرحمن صاحب قادیانی کو جو یہاں کھانے پینے کی دکان کرتے ہیں لکھا دیں۔ہماری جماعت کے حق اور صداقت پر ہونے کا یہ بھی ایک بہت بڑا ثبوت ہے کہ باوجود اس کے کہ اس وقت سے پہلے میری طرف سے اس قسم کا کوئی اعلان شائع نہیں ہوا مگر کئی دوستوں کے خط آچکے ہیں کہ اگر حسن نظامی سے مباہلہ ہو تو ہمیں بیوی بچوں سمیت اس میں شامل ہونے کی اجازت دی جائے۔دیکھو ایک طرف ہمارے دشمنوں کی تو یہ حالت ہے کہ جب ہم انہیں مباہلہ کا چیلنج دیتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ تم تو ہمیں مارنے کے درپے ہو جاتے ہو۔مگر ایک طرف ہماری جماعت کے لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ اگر ہمیں مباہلہ میں شامل کیا گیا تو ہم پر بہت بڑا احسان کیا جائے گا اور یہ ہم پر بہت ہی مہربانی ہوگی۔پھر وہ صرف اپنے آپ کو پیش نہیں کرتے بلکہ بیوی بچوں سمیت شامل ہونے کی درخواست کرتے ہیں۔مباہلہ میں شامل ہونا کوئی آسان کام نہیں۔ایک انسان یہ کہنے کیلئے شامل ہوتا ہے کہ فلاں بات جو میں ہی کہتا ہوں وہ اگر جھوٹی ہے تو خدا کی لعنت مجھ پر میری بیوی پر اور میری اولاد پر پڑے۔خطرناک اور دل دہلا دینے والے الفاظ ہیں۔بہت لوگ ہوتے ہیں جو اپنے لئے تو ذلت برداشت کرلیتے ہیں لیکن اپنی اولاد کیلئے ہرگز برداشت نہیں کرسکتے۔چنانچہ دیکھا گیا ہے کہ ایسے لوگوں کو اگر کوئی اپنی جان کی قسم دے تو کھالیتے ہیں لیکن اگر اولاد کی قسم کھانے کیلئے کہا جائے تو انکار کر دیتے ہیں مگر ہماری جماعت کے لوگوں کو دیکھو وہ یہی نہیں کہتے کہ ہمیں مباہلہ میں شامل ہونے کی اجازت دی جائے بلکہ اپنے بیوی بچوں سمیت شامل ہونے کیلئے بیتاب ہو رہے ہیں۔اور ایک صاحب تو اتنے شوقین ہیں کہ انہوں نے میرے پاس کرایہ بھی بھیج دیا ہے کہ شاید اس وقت پاس نہ ہو اور آنے میں مشکل پیدا ہو۔یہ خدا تعالی کا فضل اور رحم ہے