انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 84 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 84

انوار العلوم جلد ۴ ۸۴ جماعت کو سیاست میں دخل نہ دینے کی نصیحت واتسمرا کرتے تھے۔چنانچہ ایک میموریل آپ نے سڈیشن کے متعلق لارڈ ایلمن صاحب بہادر رائے ہند کی خدمت میں ارسال فرمایا تھا) یہ میموریل ایک ایڈریس کی صورت میں ان احباب کے نام پر تھا جن کے نام ایڈریس کے آخر میں درج ہیں۔یہ ایڈریس پندرہ نومبر کو حضور وائسرائے اور وزیر ہند صاحب کی خدمت میں پیش کیا گیا۔چونکہ یہ ایک غیر معمولی موقع تھا اور ہندوستان کی تاریخ میں بالکل نرالا اس لئے بعض احباب کے مشورہ سے ضروری سمجھا گیا کہ میں خود بھی علیحدہ ملاقات میں اپنی جماعت کی حیثیت اور اس کی حاجات کو پوری طرح حکام کے سامنے پیش کروں۔چنانچہ اسی غرض سے میں بھی دہلی گیا اور پندرہ کی شام کو وزیر ہند صاحب سے ملاقات ہوئی اور پینتیس منٹ تک ان امور کے علاوہ سلسلہ کے متعلق بھی گفتگو ہوتی رہی جس کا نتیجہ انشاء اللہ تعالٰی کئی طریق پر عمدہ نکلے گا۔ایڈریس کے مضمون کے متعلق میں نے بھی ان کو بحیثیت امام جماعت ہونے کے یقین دلایا کہ وہ ہماری جماعت کے خیالات کا آئینہ ہے کیونکہ ہماری جماعت کی سیاست بھی مذہب کے ماتحت ہے اس لئے ہم کو جس امر پر خدا تعالٰی نے کھڑا کیا ہے اس سے ہل نہیں سکتے۔لیکن چونکہ ایک تو یورپ کی طرز یہ ہے کہ جب تک ہر شخص کی رائے خود اسی کے ذریعہ پہنچائی جارے اس وقت تک اس کا مناسب اثر نہیں ہوتا اور دوسرے اس وجہ سے کہ احمدیوں کی اس پارٹی نے جو جماعت احمدیہ سے علیحدہ ہو چکی ہے اور جس کا صدر مقام لاہور ہے اور جو اپنی تعداد کے لحاظ سے ایک پارٹی کہلانے کی بھی مستحق نہیں اپنے ایڈریس میں یہ ظاہر کیا ہے کہ وہ تمام احمدیوں کی طرف سے قائم مقام ہے اور خیالات ہمارے خیالات سے بالکل مختلف ظاہر کئے ہیں جو ہمارے لئے سخت مضر ہیں اس لئے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ہر ایک جگہ کی احمدی جماعتیں جلسہ کر کے ایڈریس کا مضمون اپنی جماعت کو سنائیں اور پھر دو ریزولیوشن پاس کئے جاویں۔ایک یہ کہ اس ایڈریس کے مضمون سے جو مرزا محمود احمد کی زیر ہدایت جماعت احمدیہ کے چند معززین کی معرفت جماعت احمدیہ کی طرف سے پیش ہوا ہے اس کی جگہ کی جماعت متفق ہے۔دوم یہ کہ یہ جماعت اس بات کو نہایت نفرت سے دیکھتی ہے کہ لاہور کی احمدیہ انجمن اشاعت اسلام نے اپنے ایڈریس میں اپنے آپ کو تمام جماعت احمدیہ کے قائم مقام بتایا ہے اس انجمن سے ہماری جماعت کو ہرگز کوئی تعلق نہیں اور ہم لوگ جماعت کے مرکز قادیان سے تعلق رکھتے ہیں اور اس انجمن سے تعلق رکھنے والوں ( جو ایک دو ہزار