انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 68 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 68

انوار العلوم جلد ۴ ربوبیت باری تعالٰی ہر چیز پر محیط ہے نے ہمارے خلاف تحریک شروع کی ہوئی ہے جو ہماری ترقی میں روک ہے۔پس یہ دشمن کا اپنا اقرار ہے کہ جہاں حضرت مرزا صاحب کی تعلیم پھیلی وہاں اس کی ترقی رک گئی۔اور خوبی وہی اعلیٰ درجہ کی ہوتی ہے جس کا دشمن کو بھی اقرار ہو۔پھر وہ یورپ جو اسلام کو ایک بد ترین اور وحشیوں کا مذہب سمجھتا تھا، اس میں ایسے ایسے لوگ کھڑے ہو رہے ہیں جو نہ صرف اسلام کو پیار اور محبت کی نظر سے دیکھتے ہیں بلکہ اسے حرز جان بنا رہے ہیں اور اس سے ایک گھڑی علیحدہ رہنا اپنی موت سمجھتے ہیں۔چنانچہ کئی ایک نو مسلموں کے میرے پاس خط آئے ہیں جو لکھتے ہیں کہ ہم نے د کر لیا ہے کہ جنگ کے بعد اپنا کام کاج چھوڑ کر اسلام کی تبلیغ میں مشغول ہو جائیں گے۔ایک نے لکھا کہ آپ ہماری قوم کے لوگوں کی عادت سے واقف نہیں ہیں۔وہ دوسروں کی بات مشکل سے ماننے کے لئے تیار ہوتے ہیں لیکن اگر ان کی اپنی ہی قوم کا آدمی انہیں کچھ بتائے تو وہ توجہ اور غور سے سنتے اور مان لیتے ہیں۔اس لئے میں چاہتا ہوں کہ میں خود انہیں تبلیغ کروں اور اسلام کی طرف دعوت دوں اور اس کام میں اپنی زندگی صرف کردوں۔حضرت مرزا صاحب کے کام کو دیکھو آپ لوگ جانتے ہیں کہ کسی کے دل پر قبضہ حاصل کرنا انسان کا کام نہیں ہے۔مگر حضرت مرزا صاحب نے قبل از وقت کہہ دیا تھا کہ میں ایسا کروں گا اور دنیا مجھے قبول کرے گی اور پھر ثابت کر کے بھی دکھا دیا۔لیکن اب کس قدر افسوس اور رنج کی بات ہوگی کہ اب بھی مسلمان آپ کو دقبال اور اسلام کا دشمن کہیں۔کیا دجال کے دل میں ایسی ہی اسلام کی محبت اور الفت کی تی ہے اور وہ اس کے لئے اسی طرح کوشش اور سعی کرتا ہے۔اگر فرض کر لو کہ وہ انسان جو اسلام کی صداقت رسول کریم ﷺ کی صداقت، قرآن کریم کی صداقت کا ثبوت پیش کرتا ہے وہ دنبال ہے تو واللہ وہ ایسے مسلمانوں سے ہزار درجہ بہتر ہے جو اسلام کے لئے باعث ننگ اور عار ہو رہے ہیں۔حضرت مرزا صاحب خود فرماتے ہیں۔بعد از خدا بثق محمد مخترم گر کفر این بود بخدا سخت کا فرم کہ میں اللہ کی محبت کے بعد رسول کریم ﷺ کی محبت سے مخمور ہو رہا ہوں۔اگر اس کا نام کفر ہے تو خدا کی قسم میں بڑا ہی سخت کافر ہوں۔پس اگر خدا کی خدائی ثابت کر کے دکھانا اسلام کی صداقت دنیا کے سامنے پیش کرنا اسلام