انوارالعلوم (جلد 4) — Page 57
انوار العلوم جلد ۴ ۵۷ ربوبیت باری تعالی ہر چیز پر محیط ہے بڑھا ہوا ہے تو جب اس نے اپنی ہر ایک مخلوق کے جسم کے لئے ایسا انتظام کیا ہے تو روح کے لئے کیا کچھ نہ کیا ہو گا جو جسم کی نسبت زیادہ قیمتی چیز ہے۔یہ ایک موٹی بات ہے کہ جو باپ ایک دن کے لئے اپنے روح کی ربوبیت کے سامان لڑکے کو سفر پر بھیجنے کی خاطر جس قدر تیاری کرنے کی محنت اٹھاتا ہے وہ اگر دس دن کے لئے سفر پر بھیجے گا تو اس سے بہت زیادہ سامان کرے گا۔اس بات کو ہ نظر رکھ کر سوچنا چاہئے کہ وہ خدا جس نے ہمارے ان جسموں کے لئے ایسا انتظام کیا ہوا ہے جو کچھ عرصہ کے بعد فنا ہو جاتے ہیں کہ ان کی کوئی ضرورت ایسی نہیں جو مہیا نہیں کی گئی۔سننے کے لئے ہوا، روشنی کے لئے سورج، جسم ڈھانپنے کے لئے کپڑے، بیماریوں کے لئے دوائیاں غرضیکہ ہر ایک ضرورت کے سامان پیدا کئے ہوئے ہیں۔تو پھر کیونکر خیال کیا جا سکتا ہے کہ اس نے روحانی ضرورتوں اور حاجتوں کے لئے کچھ نہیں پیدا کیا ہو گا۔کبھی کوئی عقل یہ تجویز نہیں کر سکتی کہ جس خدا نے جسم کی حفاظت کے لئے اس قدر سامان پیدا کئے ہیں اس نے روح کے لئے کچھ نہیں کیا۔خدا تعالیٰ کا رب العلمین ہونا اس بات کے ماننے پر ہمیں مجبور کرتا ہے کہ اس نے ہماری روحوں کی زندگی کے لئے بھی کوئی سامان کیا ہو ورنہ وہ رب العلمین نہیں ہو سکتا۔چنانچہ مشاہدہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ جب سے دنیا چلی آتی ہے اسی وقت سے ایسے لوگ ہوتے چلے آئے ہیں جنہوں نے خدا سے کلام پا کر دنیا کو خدا تعالی تک پہنچنے کی راہ بتائی۔قرآن کریم میں آتا ہے۔وَإِنْ مِّنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ قرآن کریم کی صداقت (خاطر : (۲۵) کہ کوئی قوم ایسی نہیں گزری جس میں ہم نے نبی نہیں بھیجا۔یہ ایک ایسی تعلیم ہے جو کسی قسم کا تعصب پیدا کرنے کی بجائے نہایت وسعت پیدا کرتی ہے۔کیونکہ اگر ایک عیسائی کو کہا جائے کہ ایران اور ہندوستان یا اور کسی ملک میں بھی نبی ہوئے ہیں تو اس کے لئے مشکل کا سامنا ہو گا کیونکہ وہ اعتقاد رکھتا ہے کہ نبوت بنی اسرائیل تک ہی محدود ہے اس کے علاوہ اور کسی قوم سے کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔اسی طرح جب ہندوؤں کو کہا جائے کہ تمہارے ملک کے علاوہ اور ممالک میں بھی نبی آئے ہیں تو وہ حیران ہو جاتے ہیں کیونکہ اس سے ان کے مذہب کی تردید ہوتی ہے لیکن ایک مسلمان کی خوشی کی اس وقت کوئی انتہاء نہیں رہتی جب اسے بتایا جاتا ہے کہ فلاں ملک میں بھی نبی آیا ہے اور فلاں میں بھی۔یہ سن