انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 639 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 639

۶۳۹ واقعات خلافت علوی کام لیا اور اعلان کر دیا کہ ہمارا کوئی آدمی مت لڑے خواہ وہ ہمارے ساتھ لڑتے رہیں۔مگر مفسدوں نے نہ مانا۔ادھر بصرہ والوں کو بھی غصہ آگیا اور وہ بھی لڑنے لگ گئے۔یہ ایک عجیب لڑائی تھی کہ فریقین نہ چاہتے تھے کہ لڑیں لیکن لڑ رہے تھے۔اس وقت حضرت علی نے لڑائی کوی روکنے کے لئے ایک اور تجویز کی کہ ایک آدمی کو قرآن دے کر بھیجا کہ اس کے ساتھ فیصلہ کر لو۔اس پر بصرہ والوں نے خیال کیا کہ رات تو خفیہ حملہ کر دیا گیا ہے اور اب کہا جاتا ہے قرآن سے فیصلہ کر لو یہ نہیں ہو سکتا۔حضرت علی نے تو نیک نیتی سے ایسا کیا تھا۔لیکن حالات ہی ایسے پیدا ہو گئے تھے کہ اس بات کو سمجھا نہیں جاسکتا تھا۔اس وقت اس آدمی کو جو قرآن لے کر گیا تھا قتل کر دیا گیا۔اس پر حضرت علی اور ان کے ساتھیوں کو اور بھی غصہ آیا کہ قرآن کی طرف بلایا جاتا ہے۔اس کی طرف بھی نہیں آتے۔اب کیا کیا جاوے۔یہی صورت ہے کہ حملہ ہو۔ادھر سے بھی حملہ ہوا۔اور لڑائی بہت زور سے شروع ہو گئی۔آخر جب اس کے ختم ہونے کی کوئی صورت نظر نہ آئی۔تو ایک صحابی جن کا نام کعب تھا۔حضرت عائشہ کے پاس گئے اور جاکر کہا کہ مسلمان ایک دوسرے کو مار رہے ہیں۔اس وقت آپ کے ذریعہ ان کی جان بچ سکتی ہے آپ میدان میں چلیں۔حضرت عائشہ اونٹ پر سوار ہو کر گئیں۔اور انہوں نے کعب کو قرآن دے کر کھڑا کیا کہ اس سے فیصلہ کر لو۔حضرت علی نے جب ان کا اونٹ دیکھا تو فوراً حکم دیا کہ لڑائی بند کردو۔مگر مفسدوں نے بے تحاشہ تیر مارنے شروع کر دیئے۔اور کعب چھد کر گر پڑے۔اور جب حضرت عائشہ پر تیر پڑنے لگے۔تو صحابہ نے رسول کریم ا کے ناموس پر حملہ ہوتا دیکھ کر کتنا اور مرنا شروع کر دیا اور مسلمانوں میں کوئی لڑائی ایسی خونریز نہیں ہوئی جیسی یہ ہوئی۔حضرت عائشہ کے سامنے ایک ایک کر کے آتے اور مارے جاتے۔اس وقت بڑے بڑے جرنیل اور بہادر مارے گئے۔آخر جب دیکھا گیا کہ لڑائی بند ہونے کی کوئی صورت نہیں اور قریب ہے کہ تمام مسلمان کٹ کر مر جائیں۔یہ کیا گیا کہ حضرت عائشہ کے اونٹ کے پاؤں کاٹ دیئے گئے۔اور جوں ہی اونٹ گرا بصرہ والے بھاگ گئے اور حضرت علی کا لشکر غالب آگیا۔یہ جنگ جمل کا حال ہے۔اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ دراصل انسی ย لوگوں نے لڑائی کرائی جو شریر اور مفسد تھے۔اور اسلام میں فتنہ ڈالنا ان کی غرض تھی۔لڑائی کے بعد حضرت عائشہ مدینہ کی طرف جانا چاہتی تھیں۔انہیں ادھر روانہ کر دیا گیا۔اور حضرت علی اور دوسرے صحابی الوداع کرنے کے لئے ساتھ آئے۔روانہ ہوتے وقت