انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 626 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 626

انوار العلوم جلدم ۶۲۶ تقدیرانی نے فرمایا۔جب پہلی بار آگ نکلی تو اس میں مجھے کسرئی اور حیرہ کے قصر دکھائے گئے اور بتایا گیا کہ ان پر مسلمانوں کو غلبہ دیا جائے گا۔پھر میں نے کدال ماری تو اس کی روشنی میں مجھے حیرہ کے قصر دکھائے گئے۔اور بتایا گیا کہ قیصر کی اس مملکت پر مسلمانوں کو قبضہ ملے گا پھر جب میں نے تیسری دفعہ کدال ماری اور روشنی نکلی تو مجھے صنعا (یمن) کے قصر دکھائے گئے اور بتایا گیا کہ مسلمانوں کا قبضہ ہو گا۔(الكامل فى التاريخ لابن الاثير جلد نمبر ۲ صفحہ ۱۷۹ مطبوعہ وعہ بیروت ان پر ۶۱۹۶۵ غرض جب غلام کو اس کام میں کوئی روک نظر آتی ہے جو اس کے سپرد کیا گیا ہو تو وہ آقا ہی کے پاس جاتا ہے اور اس سے مدد طلب کرتا ہے۔اسی طرح عبودیت کے مقام پر پہنچا ہوا انسان دعاؤں میں خاص طور پر مشغول رہتا ہے اور ہر ایک مشکل کے وقت خدا تعالیٰ سے مدد طلب کرتا ہے۔اس شخص کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص باغ میں ہو اور اس کے پاس ایک لمبا بانس ہو جس وقت چاہے درختوں کو ہلا کر پھل گرائے۔خش تقدیر پر ایمان جب اور زیادہ ترقی کرتا ہے تو انسان اس درجہ سے بھی اوپر ترقی درجہ کم کرتا ہے اور دعاؤں کی قبولیت کا نظارہ دیکھ کر خدا کے اور قریب ہونا چاہتا ہے اور اس کے لئے کوشش کرتا ہے آخر یہ ہوتا ہے کہ اس کی کوشش ہو یا نہ ہو اس کے لئے اللہ تعالیٰ کی تقدیر جاری رہتی ہے اور اس کو اللہ تعالیٰ سے ایک رنگ وحدت کا پیدا ہو جاتا ہے۔اسی مقام کے متعلق رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ بندہ نوافل کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے ایسا قریب ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اس کے ہاتھ کان، آنکھ ، پاؤں بن جاتا ہوں۔یعنی اس مقام پر جو کام بھی یہ بندہ کرتا ہے وہ خدا تعالیٰ کا ہی کام ہوتا ہے اور یہ کلی طور پر پاک ہو جاتا ہے اس مقام کا اعلان سوائے اللہ تعالیٰ کے حکم کے کوئی انسان نہیں کر سکتا۔مگر یہ یاد ا چاہئے کہ مقام اور ہوتے ہیں اور حال اور ہوتا ہے۔ہر مؤمن خدا تعالیٰ کا عبد ہوتا ہے۔وہ تو کل بھی کرتا ہے۔دعا بھی کرتا ہے مگر ہر مؤمن پر ان باتوں کی ایک ایک آن آتی ہے اور وہ ان حال کہلاتا ہے۔اور مقام یہ ہوتا ہے کہ اکثر اوقات میں انسان اس پر قائم رہتا ہے اور آنی طور پر تھوڑی دیر کے لئے وہ حالت نہیں آتی۔اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص تو کسی گھر میں ٹھرا ہوا ہو اور دوسرا شخص بطور ملاقات تھوڑی دیر کے لئے وہاں آجائے ان دونوں کا درجہ ایک نہیں ہو سکتا۔اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کا شوق بڑھانے کے لئے کبھی کبھی اعلیٰ سے اعلیٰ مقام عه بخاری کتاب الرقاق باب التواضع