انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 608 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 608

العلوم جلد ۶۰۸ زمیندار اس ہونے کے فعل کو لغو سمجھ کر بالکل چھوڑ دیتا اور اپنی محنت کو ضائع خیال کرتا۔اسی طرح اب تو سنار کو یقین ہے کہ سونا جب آگ میں ڈالوں گا تو پکھل جائے گا اور پھر جس طرح اس سے چاہوں گا زیور بنالوں گا۔لیکن اگر ایسا نہ ہو تا بلکہ یہ ہو تاکہ سنار کو کوئی کڑے بنانے کے لئے سونا دیتا اور وہ جب اسے پگھلاتا تو وہ چاندی نکل آتی یا کوئی چاندی دیتا تو وہ پیتل نکل آتی۔کیونکہ کوئی قاعدہ مقرر نہ ہوتا تو کیا حالت ہوتی یہی کہ بیچارے سنار کو مار مار کر اس کی ایسی گت بنائی جاتی کہ وہ اس کام کے کرنے سے توبہ کر لیتا۔اسی طرح لوہار جب لوہے کو گرم کر کے اس پر ہتھو ڑا مار تاکہ اسے لمبا کرے۔لیکن وہ کبھی خود بنتا جاتا، کبھی ہارن کی شکل اختیار کر لیتا یا وہ کدال بناتا تو آگے تلوار بن جاتی اور اسے پولیس پکڑ لیتی کہ ہتھیار بنانے کی اجازت تم کو کس نے دی ہے۔یا اسی طرح ڈاکٹر تپ کے اترنے کی دوائی دیتا لیکن اس سے کھانسی بھی ہو جاتی تو ڈاکٹروں کی کون سنتا۔اب تو اگر کسی کو کھانسی ہو تو ایک زمیندار بھی کہتا ہے کہ اسے بنفشہ پلاؤ۔کیونکہ تجربے نے بتا دیا ہے کہ اس سے کھانسی کو فائدہ ہوتا ہے لیکن اگر یہ قانون مقرر نہ ہو تا بلکہ یہ ہو تاکہ کبھی بنفشہ پلانے سے کھانسی ہو جاتی اور کبھی بخار بڑھ جاتا۔کبھی قبض ہو جاتی اور کبھی دست آجاتے۔کبھی بھوک بند ہو جاتی اور کبھی زیادہ ہو جاتی تو کون بنفشہ پلاتا۔بنفشہ تب ہی پلایا جاتا ہے کہ خدا نے مقرر کر دیا ہوا ہے کہ اس سے خاص قسم کی کھانسی کو فائدہ ہو۔اسی طرح زمیندار تب ہی غلہ گھر سے نکال کر زمین میں ڈالتا ہے کہ اسے یقین ہے کہ گیہوں سے گیہوں پیدا ہوتا ہے۔اگر اسے یقین نہ ہوتا تو کبھی نہ نکالتا وہ کہتا نہ معلوم کیا پیدا ہو جائے گا میں کیوں اس غلہ کو بھی ضائع کروں لیکن اب وہ اس لئے مٹی کے نیچے گندم کے دانوں کو دباتا ہے کہ خدا نے تقدیر مقرر کی ہوئی ہے کہ گندم سے گندم پیدا ہو۔اسی طرح روٹی کھانے سے پیٹ بھرتا ہے۔لیکن اگر ایسا ہو تا کہ کبھی ایک لقمہ سے پیٹ بھر جاتا اور کبھی کوئی سارا دن روٹی کھاتا رہتا اور پیٹ نہ بھرتا تو پھر کس کو ضرورت تھی کہ کھانا کھاتا اور کیوں پیسے ضائع کرتا یا گھر میں آگ جلانے سے کھانا پکایا جاتا ہے۔لیکن اگر یہ ہو تا کہ کبھی سارا دن بھلکہ توے پر پڑا رہتا اور آگ جلتی رہتی لیکن وہ گیلے کا گیلا ہی رہتا اور کبھی آٹا ڈالتے ہی جل جاتا اور کبھی سینک لگنے سے پھل کا پکنے لگتا اور کبھی موٹا ہو کر ڈبل روٹی بن جاتا تو کون پھلکے پکانے کی جرات کرتا۔اس طرح کبھی ساگ کچا رہتا اور کبھی پک جاتا تو کون پکا تا۔یا اب معلوم ہے کہ مصری ڈالنے سے چیز میٹھی ہو جاتی ہے۔لیکن اگر ایسا ہو تا کہ کبھی مصری ڈالنے سے میٹھی ہو جاتی ، کبھی کڑوی، کبھی